1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کنُوٹ انتقال کرگیا، برلن کا چڑیا گھر سوگوار

جرمنی میں برفانی ریچھ کا کنُوٹ نامی بچہ انتہائی مقبول تھا۔گزشتہ روز کنوٹ کی اچانک موت نے اس کے مداحوں کو اُداس کر دیا ہے۔ جانوروں کے ایک فلاحی ادارے نےکہا کہ کنوٹ کی زندگی ناخوش اور مختصر تھی۔

default

برلن کےچڑیا گھر میں کُنوٹ کو دیکھنے آنے والوں کی وجہ سے رش رہتا تھا۔ آج اتوار کے روز بھی کنوٹ کی وجہ سے بہت سے لوگ چڑیا گھر آئیں گے۔ لیکن یہ تعزیت کرنے والوں کا رش ہو گا۔ برلن کے چڑیا گھر کی ترجمان کلاؤڈیا بینیک نے بتایا کہ ہر ایک، پولر بیئر کُنوٹ کی موت پر افسردہ ہے۔ اسے دیکھنے آنے والوں میں صرف جرمن باشندے ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ دنیا بھر سے برفانی ریچھ کے چاہنے والے کنوٹ سے ملنے آتے تھے۔

Knut und Betreuer Thomas Dörflein

ڈیورفلائن کنوٹ کو گود میں لٹا کر فیڈر سے دودھ بھی پلاتے تھے اور گانے بھی سناتے تھے

برفانی ریچھ عام طور پر35 سال تک زندہ رہتے ہیں لیکن کنوُٹ ابھی صرف چار سال تین ماہ ہی کا تھا۔ کنوٹ کو ہفتے کے روز اپنے تالاب میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ یہ تالاب وہ تین مزید برفانی ریچھوں کے ساتھ استعمال کرتا تھا اور یہ تینوں مادہ تھیں۔ ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ کنوُٹ کی ہلاکت کی وجہ کیا تھی۔ تاہم پیر کے روز اس کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ برلن کے چڑیا گھر میں موجود ایک شخص نے بتایا کہ کنوُٹ پتھر پر بیٹھا ہوا تھا کہ یکدم اس کابایاں پاؤں ہلنا شروع ہو گیا۔ تب اس نے اٹھ کر چلنا شروع کر دیا اور پھر وہ پانی میں گر گیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد چڑیا گھر بند کر دیا گیا تھا۔

برلن کے میئر کلاؤس ووورائٹ نے کنوٹ کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔’’وہ ہمارے دلوں میں بس چکا تھا۔‘‘ 2007ء میں کنوُٹ اور اس کے بھائی کو پیدائش کے بعد ان کی ماں نے تسیلم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کنوٹ کا بھائی کا توکچھ عرصے بعد ہی انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے پالنے کی ذمہ داری تھوماس ڈیورفلائن کے سر تھی۔ وہ اسے گود میں لٹا کر فیڈر سے دودھ بھی پلاتے تھے اورگٹار پر ایلوس پریسلے کے گانے بھی سناتے تھے۔ کنُوٹ کی وجہ سے برلن کے چڑیا گھر کو کئی ملین یورو کا فائدہ ہوا اور فرینکفرٹ کے بازار حصص میں اس کے شیئرز کی قیمت بھی بڑھ گئی۔

Deutschland Berlin Zoo Eisbärenbaby Knut

کنوُٹ ابھی صرف چار سال تین ماہ ہی کا تھا

کنوٹ کی پرورش کرنے والے تھوماس ڈیورفلائن کا 2008ء میں انتقال ہو گیا تھا۔

2007ء میں جب پہلی مرتبہ کنوُٹ کی ملاقات اس کے چاہنے والوں سے کرائی گئی، تو اس وقت دنیا بھر سے لوگ وہاں موجود تھے۔ کیمروں سے نکلنے والی روشنیاں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی مشہور فلمی اداکار برلن کے چڑیا گھر میں آیا ہوا ہے۔ روئی کے گالے کی طرح سفید کنوٹ بڑے مزے مزے سے اپنا پنجہ چہرے کے سامنے رکھ کر تصاویر کھنچواتا تھا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس