1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کم کلائسٹرز: WTA چیمپیئن شپ کی فاتح

خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ کے خلیفہ ٹینس کمپلیکس میں خواتین ٹینس کا رواں سال کا آخری اہم ترین ٹورنامنٹ اپنی منزل کو پہنچ گیا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کو کِم کلائسٹرز نے تیسری مرتبہ جیتا ہے۔

default

کم کلائسٹرز: فائل فوٹو

دوحہ کے جدید اور حسین، خلیفہ ٹینس کمپلیکس میں بیلجیئم کی سابق عالمی نمبر ایک کم کلائسٹرز نے ایک اور زور دار مقابلے میں اپنی مد مقابل کو شکست سے دوچار کیا۔ فائنل میں ان کا مقابلہ موجودہ عالمی نمبر ایک کیرولین ووصنیاکی کے ساتھ تھا۔ سیمی فائنل کی طرح فائنل میں بھی سابقہ عالمی نمبر ایک نے تین سیٹ کے طویل میچ میں کامیابی حاصل کی۔ سیمی فائنل میں انہوں نے عالمی نمبر دو روسی کھلاڑی ویرا زونوریوا کو ہرایا تھا۔

کم کلائسٹرز اور ووصنیاکی کے درمیان میچ خاصا شاندار اور زور دار رہا۔ پہلا سیٹ کلائسٹرز نے جیتا۔ دوسرے سیٹ میں ڈنمارک کی کیرولین ووصنیاکی نے پاور پلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح حاصل کی۔ اس سیٹ میں بھی کلائسٹرز نے مقابلہ خوب کیا اور وہ پانچ گیمز جیت گئی تھیں۔ تیسرے

Caroline Wozniacki Tennis Dänemark U.S. Open Flash-Galerie

کیرولین ووصنیاکی: ایک میچ کے دوران گر پڑی تھیں: فائل فوٹو

سیٹ میں کلائسٹرز نے ڈنمارک کی کھلاڑی کی پھرتی کو چلنے نہیں دیا اور سیٹ اور میچ جیت کر مبصرین کو حیران کردیا۔ کلائسٹرز نے سات سال کے وقفے کے بعد ڈبلیو ٹی اے ٹورنامنٹ میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ٹینس مقابلوں میں WTA چیمپیئن شپ پر خواتین کے معتبر مقابلوں کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی رینکنگ ٹورنامنٹ نہیں کھیلا جاتا۔ اب اگلا بڑا ٹورنامنٹ نئے سال کے شروع پر آسٹریلین اوپن ہو گا۔ اس ٹورنامنٹ سے قبل مبصرین کو یقین تھا کہ کیرولین ووصنیاکی اپنی موجودہ فارم کے ساتھ کامیاب ہونگی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ بظاہر وہ سال کے آخر تک عالمی نمبر ایک رہیں گی۔ لیکن اس میں کوئی معتبر ٹورنامنٹ کے علاوہ گرینڈ سلیم مقابلوں کی جیت بھی شامل نہیں ہے۔ ان کی مجموعی کارکردگی کا انداز روسی کھلاڑ دینارا سافینا جیسا ہے۔ وہ بھی کسی میجر ٹورنامنٹ کو جیتے بغیر عالمی نمبر ایک رہ چکی ہیں۔ مبصرین کے خیال میں ووصنیاکی کے لئے اگلے برس کسی گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ میں کامیابی بہت ضروری ہے وگرنہ ان کی صلاحیتوں پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو جائیں گی۔

تین سال تک WTA چیمپیئن شپ قطر کے شہر دوحہ میں کھیلی گئی۔ اب اگلے برس سے مزید تین سالوں کے لئے اس کی میزبانی ترکی کا تاریخی شہر استنبول کرے گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس