1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کم کلائسٹرز کی ٹینس میں شاندار واپسی

بیلجئم کی کم کلائسٹرز نے ٹینس کا آخری گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ یو ایس اوپن جیت لیا ہے۔ 26 سالہ کلاسٹرز نے فائنل میں ڈنمارک کی کیرولن ووسنیاکی کو شکست دی ۔

default

کم کلائسٹرز : فائل فوٹو

کم کلائسٹرز نے یہ کہ کر ٹینس سے اپنی ریٹارمنٹ کا اعلان کیا تھا کہ وہ زخمی ہونے کی وجہ سے مزید نہیں کھیل سکیں گی۔ لیکن یو ایس اوپن کا فائنل جیت کرانہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ آج بھی اس کھیل کے لئے بالکل فٹ ہیں۔ فائنل میں انہوں نے ڈنمارک کی کیرولن ووسنیاکی کو شکست دی۔ فائنل میں ڈنمارک کی اُنیس سالہ کھلاڑی نے اندازوں کے برخلاف انتہائی شاندارکھیل پیش کیا۔ کم کلائسٹرز نے پہلا سیٹ دو گیم پیچھے رہنے کے بعد 7-5 سے جیتا۔ دوسرے سیٹ میں کم کلائسٹرز نے 6-3 سے فتح پائی۔

کم کلائسٹرز نے سن دو ہزار پانچ میں بھی یُو ایس اوپن جیتا تھا۔ وہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے والی پہلی کھلاڑی ہیں، جن کے پاس Wild Card۔ اس کارڈ کا مطالب ہے کہ جب کوئی کھلاڑی عالمی رینگنگ کا تعین نہیں ہو اور وہ اس وقت رجسٹرڈ بھی نہ ہو تو اسےWild Card دے کرٹورنامنٹ میں کھیلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اپنی کامیابی کے سفر میں کلائسٹرزنے کوارٹر فائنل میں وینس ویلیمز کو شکست دی اورسیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن سیرینا ولیمز کو ہرایا۔

Serena Williams Australia Open Gewinnerin Einzel Frauen

سیرینا ولیمز

خواتین کے سیمی فائنل میں سیرینا ولیمزکے خراب مزاج نے بھی اُن کی ہار میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنی بار بار کی غلطیوں پر جھنجھلائی ہوئیں تھیں اور آخرکار اپنا سارا غصہ لائن کنٹرول کرنے والی خاتون پر اتار دیا۔ وہ پوائنٹ میچ پوائنٹ بھی تھا جس کی وجہ سے سیرینا آخری پوائنٹ بغیر مقابلے کے ہار گئیں۔

اِس معاملے کی چھان بین شروع کردی گئی۔ کھیل کے جذبے کے منافی رویے پر سیرینا ولیمز پردس ہزار پانچ سو ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ماہرین کے خیال میں اگر اُن کی غلطی ثابت ہوگئی تو مزید تادیبی کارروائی کے امکانات ہیں۔

Rafael Nadal im Semifinale in Wimbledon

ہسپانوی کھلاڑی رافائل نادال .

کم کلائسٹرز نے یُو ایس اوپن میں انتہائی مہارت اور صبر سے تمام میچ کھیلے۔ ساتھ یہ کم کلائسٹرز ٹینس کی تاریخ میں دوسری کھلاڑی ہیں، جنہوں نے ماں بننے کے بعد کسی اہم ٹورنامنٹ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا کی ایوونا کولوے وہ واحد کھلاٹی تھیں، جنہوں نے ماں بننے کے بعد بھی 1980 میں ومبلڈن میں کامیابی حاصل کی تھی۔

یُو ایس اوپن میں مردوں کے سیمی فائنل بھی کا سلسلہ بھی مکعمل ہو گیا ہے۔ پہلا سیمی فائنل اسپین کے رفائیل نادال اورارجنٹائن کے ژوان مارٹین ڈیل پوٹرو کے مابین کھیلا گیا۔ اِس میں ارجنٹائن کے نوجوان کھلاڑی نے ہسپانوی کھلاڑی کو بڑی آسانی سے تین سیٹ میں ہرا دیا۔ تینوں سیٹ میں سکور چھ دو رہا۔ پورے میچ میں ندال صرف چھ گیمز جیتنے میں کامیاب رہے۔ ماہرین کے خیال میں ٹینس کیرئر میں نادال کی یہ سب سے خراب کارکردگی اور بری شکست ہے۔ نادال ابھی تک صحت کے معاملات سے نکل نہیں پائے ہیں۔ گھٹنے کی چوٹ کے بعد یو ایس اوپن کے درمیان اُن کو پیٹ میں مسلسل درد رہا۔ نادال کے خلاف سیمی فائنل میچ میں ڈیل پوٹرو نے اپنے کھیل کو ناقابلِ یقین قرار دیا ہے۔ بتیس سال بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ارجنٹائن کے کسی کھلاڑی کو یو ایس اوپن کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ سن اُنیس سو ستترمیں Guillermo Vilas کو فائنل تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

Roger Federer

سوئس کھلاڑی راجر فیڈرر

دوسرا سیمی فائنل سوئٹزرلینڈ کے راجر فیڈرر اور عالمی نمبر تین نوواک جوکووچ کے درمیان کھیلا گیا، جو ڈھائی گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ فیڈرر نے سیریبا کے کھلاڑی کو تین سیٹ میں ہرایا۔ مجموعی طورپرمیچ کا خرام قدرے سست رہا۔ جوکووچ کے خلاف آخری گیم میں فیڈرر کا نیٹ کی جانب رُخ کئے بغیر اپنی ٹانگوں کے درمیان سےحیران کُن شارٹ نے تمام شائقین کا دِل موہ لیا۔ اِس شارٹ سے فیڈرر کو میچ پوائنٹ حاصل ہوا اور وہ پھر بڑی آسانی سے سیٹ اور میچ جیتنے میں کامیاب رہے۔ مردوں کا فائنل میچ آج پیر کو کھیلا جائے گا۔ جس میں عالمی نمبر ایک راجر فیڈرر کو ارجنٹائن کے عالمی نمبر چھ ژوان مارٹین ڈیل پوٹرو کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اگر راجر فیڈرر، پیر کا فائنل میچ جیتنے میں کامیاب رہے تو ٹینس تاریخ کے پہلے کھلاڑی ہوں گے جن کی ٹینس مقابلوں میں انعام جیتنے کی رقم پچاس ملین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔

یُو ایس اوپن میں اور دوسرے گرینڈ سلیم مقابلوں کی طرح جونئیر چیمپئن شپ کا بھی انعقاد ہوا۔ اِس میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے لڑکے اور لڑکیوں نے شرکت کی۔ برطانیہ کی ہیتھر واٹسن لڑکیوں کی جونیئرچیمپئن بنی۔ فائنل میں اُنہوں نے روس کی Yana Buchina کو دو سیٹ میں ہرایا۔ وہ پہلی برطانوی نوعمر کھلاڑی ہیں جو یہ اعزاز کو جیتنے میں کامیاب رہی ہیں۔