کم سن بچی کا قتل، پاکستان سکتے میں | حالات حاضرہ | DW | 10.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کم سن بچی کا قتل، پاکستان سکتے میں

پاکستانی صوبے پنجاب کے شہر قصور میں آٹھ سالہ کم سن بچی زینب کے زیادتی اور پھر قتل کی لرزہ خیز واردات کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے سول انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

’جسٹس فار زینب‘

’پاکستانی مدارس میں جنسی استحصال ایک عام سی بات‘

دنیا کا ہر دسواں بچہ اسکول نہیں جا پاتا

قصور شہر میں احتجاج کرنے والے مشتعل افراد پر پولیس کی فائرنگ کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ امن و امان کی صورت حال کو بحال کرنے کے لیے قصور میں رینجرز کے طلب کیےجانے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے قصور کے ڈی پی او ذوالفقار احمد کو ان کے عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا ہے اور سانحہء قصور کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا اعلان کیا ہے، ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش کی سربراہی میں بننے والی اس ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے ارکان بھی شامل ہیں۔

منگل کو لاپتہ ہونے والی آٹھ سالہ بچی زینب کی تشدد زدہ لاش ان کے گھر سے دو کلومیٹر دور ملی تھی۔ زینب کی نماز جنازہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے پڑھائی،نماز جنازہ کے بعد ان کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے، سانحہ ماڈل ٹاون کی تاریخ ایک مرتبہ پھر دوہرا دی گئی ہے۔ ان کے بقول اب اس حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

زینب کے والدین، جو عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے، اب پاکستان پہنچ چکے یں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ملزمان کی گرفتاری کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جاتے بچی کی تدفین نہیں کی جائے گی۔

پاکستانی فوج کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سابق صدر آصف علی زرداری، پرویز الہیٰ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت پاکستان کے تمام بڑے سیاسی لیڈروں نے اس بہیمانہ واردات کی شدید مذمت کی ہے۔ جماعت اسلامی نے اسمبلی میں سانحہ قصور کے حوالے سے تحریک التوا جمع کروا دی ہے۔  عمران خان اور کئی دوسرے سیاسی لیڈر بھی جمعرات کے روزقصور پہنچ رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد احتجاج اور پولیس کی کارروائی کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے، ڈی سی آفس اور تھانہ صدر پر بھی مشتعل مظاہرین کا حملہ ہوا ہے، کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ چکے ہیں، تمام تجارتی مراکز اور دفاتر اس واقعے کے بعد بند ہو گئے ہیں۔

مقامی پولیس حکام نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ متعلقہ علاقے سے سی سی ٹی وی ویڈیوز حاصل کر کے فرانزک لیب میں بھجوا دی گئی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:50
Now live
01:50 منٹ

بھارت: گینگ ریپ کے ملزم کی رہائی پر احتجاج

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو اگلے چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا لیکن بدھ کی شام تک کوئی مجرم گرفتار نہیں ہو سکا۔

عورت فاونڈیشن کی پنجاب کی ریذیڈنٹ ڈائریکٹر ممتاز مغل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ قصور میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تواتر کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے بقول ان واقعات کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں انصاف اور پراسیکیوشن کا نظام متاثرہ افراد کو انصاف دینے میں ناکام رہا ہے، ان کے بقول بدقسمتی سے حکومتیں بھی ایسے واقعات پر اس وقت سرگرم ہوتی ہیں، جب میڈیا اور سول سوسائٹی اس پر شور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپوزیشن کی جماعتوں کی طرف سے اس واقعے کو پوائینٹ سکورنگ کے یئے استعمال کرنا بھی افسوسناک ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک سرگرم کارکن افتخار مبارک نے بتایا کہ پنجاب کے صوبے میں بچوں کے تحفظ کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ان کے مطابق 2015 میں قصور میں کم سن بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے کے واقعات سامنے آنے کے بعد حکومتی کمیٹیوں نے بچوں کو تشدد سے بچانے کے لیے جو جو سفارشات تیار کی تھیں ان پر بھی کوئی عمل نہیں ہو سکا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic