1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کم جونگ اُن سے ملنا میرے لیے ’اعزاز‘ ہو گا، ٹرمپ

شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری منصوبوں کی وجہ سے امریکا اور پیونگ یانگ کے مابین شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ تاہم ٹرمپ کے ایک حالیہ انٹرویو کے ایک جملے نے صورتحال کو یکسر بدل ڈالا۔

ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شمالی کوریا کو عسکری کارروائی کی دھمکی دی جا رہی تھی تاہم اب امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ بنیادی طور پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کرنے پر تیار ہیں۔ بلومبرگ نامی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’اگر  مناسب ہوا تو میں کم جونگ اُن سے ضرور ملوں گا‘‘۔ اس دوران انہوں نے مزید کہا، ’’اگر میں نے ایسا کیا تو یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی۔‘‘

تاہم اس انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی کسی ملاقات سے قبل کچھ شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اِن شرائط کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان شین اسپائسر نے کچھ دیر بعد اس انٹرویو کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی کئی شرائط ہیں، جن پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا اور ان کا پورا کیا جانا لازمی ہے، ’’موجودہ حالات میں شمالی کوریا ان شرائط سے بہت دور ہے‘‘۔ اسپائسر نے مزید کہا کہ اگر شمالی کوریا کی جانب سے اشتعال انگیزی اسی طرح جاری رہی تو کسی بھی طرح کی بات چیت کا عمل میں آنا بہت مشکل ہے۔

گزشتہ دنوں کے دوران امریکا اور شمالی کوریا کے مابین تنازعے کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکا کئی مرتبہ پیونگ یانگ کو فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکا ہے تاہم شمالی کوریا ان امریکی دھمکیوں سے مرعوب دکھائی نہیں دیتا۔ واشنگٹن انتظامیہ کا یہ بھی خیال ہے کہ اس مسئلے کو صرف عسکری طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے ٹرمپ چین سے شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے کی بات بھی کر رہے ہیں۔