1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کم از کم 25 پاکستانی فوجی عسکریت پسندوں کے حملے میں ہلاک

پاکستانی حکام کے مطابق جمعے کے روز سینکڑوں افغان عسکریت پسندوں نے پاکستان کے نیم فوجی دستوں کی چوکیوں پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 25 سپاہیوں سمیت 36 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

پاکستانی حکام کے مطابق سرحدی علاقے ارندو میں فوجی چوکیوں پر افغان صوبے نورستان سے آنے والے عسکریت پسندوں نے دھاوا بول دیا، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔ حکام کے مطابق عسکریت پسند نے یہ حملہ الصبح کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر چترال اسکاؤٹس سے تعلق رکھنے والے سپاہی اور پولیس اہلکار تھے۔ اس واقعے میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے چوکی پر حملے کے بعد بستیوں پر بھی حملے کیے۔

ایک سکیورٹی افسر نے کہا، ’’عسکریت پسندوں کے پاس بھاری اسلحہ اور گولہ بارود تھا، جس کی وجہ سے بھاری نقصان ہوا۔‘‘ اس افسر کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں درجنوں شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔

2 Waziristan.jpg

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق چترال اسکاؤٹس سے تھا

خیال رہے کہ پاکستانی حکومت اور افواج، افغانستان سے ملحق شمال مغربی قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ جولائی کے مہینے میں چھ سو کے قریب عسکریت پسندوں نے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 27 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ جوابی کارروائی میں 45 عسکریت پسند بھی مارے گئے تھے۔ دیر میں ہونے والے اس واقعے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں ایک دوسرے پر دراندازی کے الزامات عائد کرتی ہیں۔ افغان حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان سے شدت پسند افغانستان میں داخل ہو کر شورش برپا کرتے ہیں، جب کہ پاکستان بھی اسی نوعیت کے الزامات افغانستان پر عائد کرتا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کے کئی علاقوں میں نیٹو فوجی دستے سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان افواج کے حوالے کر چکے ہیں، تاہم مبصرین کے مطابق افغانستان کی داخلی صورت حال ہنوز کشیدگی کا شکار ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

 

DW.COM