1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کم ازکم تنخواہ، سی ڈی یو کے مؤقف میں تبدیلی

ایک طویل عرصے تک جرمنی کی حکمران جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کم از کم تنخواہ مقرر کرنے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ تاہم اب یہی جماعت اس حوالے سے اہم فیصلے کرنا چاہتی ہے۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور ان کی جماعت سی ڈی یو کم از کم تنخواہ مقرر کرنے کے خلاف تھے لیکن اس مطالبے کو ہمیشہ ہی مسترد کرتے آئے۔ لیکن اب سی ڈی یو چاہتی ہے کہ فی گھنٹہ کم از کم اجرت 6 یورو 90 سینٹ مقرر کر دی جائے۔ تاہم اسے ٹریڈ یونینز اور آجر اداروں کے صلاح و مشورے سے کیا جائے گا۔ جرمن وزیر محنت اُرسلا فان ڈیئر لائن نے اتوار کے روز ایک جرمن اخبار ’زُوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ کو بتایا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ کم از کم تنخواہ مقرر کی جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کیسے کیا جائے کہ یہ تنخواہ کتنی ہونی چاہیے۔

Sigmar Gabriel SPD Bundestag

کم از کم تنخواہ کا تعین پارلیمان کو کرنا چاہیے، زیگمار گابرئیل

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے حکومت کے مؤقف میں تبدیلی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ تاہم سوشل ڈیموکریٹک رہنما زیگمار گابرئیل کا کہنا ہے کہ کم از کم تنخواہ کا تعین پارلیمان کو کرنا چاہیے۔ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کو اس حوالے سے پارلیمان میں بل پیش کرنا چاہیے۔ ’’ہم اس حوالے سے تیار ہیں لیکن اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس سے عوام کا سماجی امداد پر انحصار کم کیا جا سکے۔‘‘

سی ڈی یو کے سیاستدان اس سے قبل کہتے تھے کہ کم از کم تنخواہ اگر مقرر کر دی گئی تو اس سے روزگار کی منڈی پر اثر پڑے گا اور روزگار کے مواقع کم ہو جائیں گے۔ لیکن اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ جن شعبوں میں کم از کم اجرت دی جاتی ہے وہاں نوکریوں پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکمران جماعت کے مؤقف میں تبدیلی آئی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: حماد کیانی