1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کمیونسٹ کیوبا میں سیاسی قیدیوں کی رہائی

کیوبا میں کمیونسٹ حکومت کی طرف سے گزشتہ ایک عشرے کے دوران سیاسی قیدیوں کی رہائی کے سب سے بڑے عمل کے آغاز پر عالمی وقت کے مطابق منگل کی صبح متعدد سرکردہ حکومتی ناقدین کو رہا کر دیا گیا۔

default

کیوبا میں بھوک ہڑتال کرنے والا سیاسی قیدی فاریناس: فائل فوٹو

کیوبا میں رہائی پانے والے سیاسی قیدی فوری طور پر ان کے اہل خانہ کے ہمراہ سپین بھجوا دئے گئے۔

ہوانا سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق مجوعی طور پر جن گیارہ سیاسی قیدیوں کو پیر اور منگل کی درمانی شب رہا کیا جانا تھا، وہ ان باون قیدیوں میں شامل تھے، جن کی رہائی کے سلسلے میں صدر راؤل کاسترو اور کیوبا میں کیتھولک چرچ کے سربراہ کارڈینل اورٹیگا کے مابین ہونے والی حالیہ بات چیت میں یہ طے پایا تھا کہ ان قیدیوں کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔

Jahresrückblick 2008 International Februar Kuba Raul Castro Präsident

فیڈل کاسترو کے بھائی اور کیوبا کے موجودہ صدر راوٴل کاسترو

منگل کی صبح مختلف خبر ایجنسیوں نے اپنے مراسلوں میں لکھا: ’’جن پچاس سے زائد سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے، ان میں سے اب تک بیس قیدی اس بات پر رضا مند ہو چکے ہیں کہ وہ اپنی رہائی کے بعد اپنے قریب 65 اہل خانہ اور رشتہ داروں کے ہمراہ بلاتاخیر کیوبا سے سپین چلے جائیں گے، جہاں وہ جلاوطنی کی زندگی گزاریں گے۔‘‘

اس پس منظر میں ہوانا میں مقامی وقت کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی رات جن گیارہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا، انہیں فوری طور پر ان کے اہل خانہ کے ہمراہ راتوں رات، جب مغربی یورپ میں ابھی منگل کی صبح سحری کا وقت تھا، آئبیریا اور ایئر یورپ نامی ایئر لائنز کی پروازوں کے ذریعے کیوبا سے سپین بھجوانے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔

ان سیاسی قیدیوں کو کیوبا میں طویل مدت کی قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں اور انہیں رہا کرنے کے بعد سپین بھجوانے کا پروگرام اس لئے بنایا گیا کہ سپین نے اس معاملے میں کیوبا کی حکومت اور ان سیاسی منحرفین کے مابین رابطہ کاری کی تھی۔

Da gehts vorwärts

کیوبا کے انقلابی رہنما فیڈل کاسترو اور سابق امریکی صدر جمی کارٹر: فائل فوٹو

اس بارے میں ہسپانوی وزیر خارجہ موراتینوس نے ہی یہ پیشکش کی تھی کہ رہائی کے بعد اگر یہ سابقہ سیاسی قیدی کیوبا میں نہ رہنا چاہیں تو انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سپین اپنے ہاں سیاسی پناہ دینے پر تیار ہو گا۔

منگل کی صبح ہوانا سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ ان سیاسی قیدیوں کی کیوبا کی جیلوں سے رہائی کے بعد ان کی سپین روانگی کے پروگرام پر عمل درآمد ہو گیا، اس کا ثبوت ایک ایسے سرکردہ سابقہ سیاسی قیدی کی وہ ٹیلی فون کال بھی ہے، جس میں اس نے ہوانا کے ہوائی اڈے سے ایک مغربی خبر رساں ادارے کو فون پر بتایا کہ وہ اور اس کے اہل خانہ ایک ایسے ہوائے جہاز پر سوار تھے جو عنقریب ہی ہوانا سے سپین میں میڈرڈ کے لئے پرواز کرنے والا تھا۔

انسانی حقوق کے تنظیموں کے مطابق کیوبا میں اس وقت کل قریب 167 سیاسی قیدی موجود ہیں، جن میں سے دس پیرول پر ہیں، اور کیوبا کی حکومت ایسے تمام کارکنوں کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دے کر ملک میں کمیونسٹ نظام حکومت کے لئے خطرہ قرار دیتی ہے اور اسی لئے انہیں جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عابد حسین

DW.COM