1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

کمپیوٹر کی دنیا میں نیا انقلاب، آئی بی ایم کی ’برین چپ‘

معروف کمپیوٹر ساز ادارے آئی بی ایم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ایسی چپ تیار کی ہے جو انسانی دماغ کے کام کرنے کے طریقہ کار کے مطابق ڈیٹا پراسیس کرتی ہے۔ اسے برین چپ کا نام دیا گیا ہے۔

default

یہ ’نیورو سائنیپٹک‘ کمپیوٹر چپس دراصل انسانی دماغ کے ڈیٹا پراسیس کرنے کے طریقہ کار پر کام کرتی ہیں اس مقصد کے لیے اس میں ڈیجیٹل سرکٹس کے ذریعے ایسے ’کمپیوٹنگ کور‘ یا علاقے ترتیب دیے گئے ہیں جو بغیر کسی بیرونی سافٹ ویئر کے پراسیسنگ، رابطوں اور ڈیٹا کو ذخیرہ کرنے کے کام انجام دیتے ہیں۔

آئی بی ایم کی طرف سے جمعرات 18 اگست کو بتایا گیا کہ نئی چپس میں دراصل انتہائی جدید الگوردمز اور سیلیکان سرکٹس کے ذریعے انسانی دماغ کو حیرت انگیز طاقت عطا کرنے والے نیورونز اور  معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال ہونے والے خاص حصوں synapses جیسے افعال پیدا کیے گئے ہیں۔ آئی بی ایم کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق: ’’ ان چپس کے ذریعے جو کمپیوٹر بنائے جائیں گے انہیں ’کوگنیٹیو‘ یا علم رکھنے والے کمپیوٹرز کا نام  دیا جائے گا اور یہ کمپیوٹر موجود کمپیوٹرز کی طرز پر کام نہیں کریں گے، بلکہ توقع کی جا رہی ہے کہ کوگنیٹیو کمپیوٹر اپنے تجربے سے سیکھیں گے۔ یہ مختلف چیزوں کے درمیان تعلق تلاش کرنے، مفروضہ سازی اور چیزوں کو یاد رکھتے ہوئے ان سے حاصل ہونے والے نتائج سے سیکھیں گے۔‘‘

آئی بی ایم کے مطابق ان چپس کے ذریعے جو کمپیوٹر بنائے جائیں گے انہیں ’کوگنیٹیو‘ یا علم رکھنے والے کمپیوٹرز کا نام دیا جائے گا

آئی بی ایم کے مطابق ان چپس کے ذریعے جو کمپیوٹر بنائے جائیں گے انہیں ’کوگنیٹیو‘ یا علم رکھنے والے کمپیوٹرز کا نام دیا جائے گا

تیار کی گئی برین چِپ میں کسی قسم کے بائیالوجیکل اجزاء شامل نہیں ہیں، لیکن اس میں دو اہم حصے ہیں جن میں سے ایک 262,144  پروگرام کیے جانے کے قابل synapses پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا 65,536 سیکھنے والے  synapses پر مشتمل ہے۔

آئی بی ایم کا ہدف اب ایک ایسا چپ سسٹم تیار کرنا ہے جس میں 10 بلین نیورونز اور 100 ٹریلین  synapses موجود ہوں گے۔ یہ نظام کام کرتے ہوئے محض ایک کلو واٹ بجلی خرچ کرے گا اور اس کا سائز اتنا کم ہوگا کہ یہ صرف دو لٹر حجم کی جگہ لے گا۔ برین چپس پر مشتمل یہ نظام کمپلکس ریئل ٹائم انوائرنمنٹس یعنی پیچیدہ عوامل کے ظہور پزیر ہوتے ہوئے ان کا مشاہدہ کر نے اور ان کو چلانے کا اہل ہوگا۔ کمپنی کے مطابق یہ افعال موجودہ کمپیوٹرز کے بس سے باہر ہیں۔

آئی بی ایم ریسرچ پراجیکٹ لیڈر دھرمیندرا موڈھا کے بقول: ’’ ایسی ٹریفک لائٹس کا تصور کریں جو دیکھی گئی چیزوں، آوازوں اور سونگھنے کی قوت کو یکجا کرتے ہوئے کسی خطرناک چوراہے پر کوئی بھی حادثہ ہونے سے قبل ہی اس کے بارے میں انتباہ کردیں۔‘‘ دھرمیندرا کے مطابق :’’ یہ چپس دراصل کمپیوٹرز کو ایک حساب کتاب کرنے والی مشین سے ایک ایسے نظام میں بدل دیں گی جو سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، یعنی کمپیوٹرز کی ایک بالکل ہی نئی جنریشن۔‘‘

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: حماد کیانی

DW.COM