1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کملا ثریا: بھارت کی بے باک ادیبہ

برصغیر پاک و ہند میں خواتین ادیبوں میں بہت کم ایسی خواتین ہیں جنہوں نے مرد شاعروں اور نثرنگاروں کی موجودگی میں عام روایت سے ہٹ کر لکھا۔ اِن خواتین کو ہدف تنقید کے ساتھ ساتھ ملامت کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

default

مشقت میں مصروف بھارتی عورت، کملا دس کا خاص موضوع تھا۔

بھارت کی ریاست کیرالہ کے مالا بار ضلع میں پیدا ہونے والی ایک لڑکی کا نام مادھوی کُٹی رکھا گیا۔ یہ لڑکی اکتیس مارچ سن اُنیس سو چونتیس میں پیدا ہوئی تھی۔ مادھوی کُٹی بعد میں انتہائی مشہور ادیبہ و شاعرہ کے طور پر عالم میں کملا داس کے نام سے مشہور ہوئیں۔ وہ اکتیس مئی سن دو ہزار نو کو انتقال کر گئیں ہیں۔

کملا دس کو جمالیاتی فن کا ذوق و شوق ورثے میں ملا تھا۔ اُن کی والدہ نالاپتی بالا مانی بھی مذہبی شاعری میں قدم رکھتی تھیں۔ اُن کے ہندو دیوتاؤں کے لکھے ہوئے مذہبی قصائد اور گیت عام لوگوں میں پسند کئے جاتے تھے۔ وہ مندروں میں دھرم سے متعلق سبق آموز کہانیاں بھی سنایا کرتی تھیں۔ بچپن میں کملا داس کی ماں کو احساس تھا کہ اُن کی بیٹی بھی بڑی ہو کر اُن جیسی دھرم سے وابستہ ایک شاعرہ اور کہانی کار بنیں گی مگر جب وہ جوان ہوئیں تو اُن کے اشعار اور کہانیاں بھارت کی خواتین کے احساسات و جذبات کی عکاس تھیں۔ اِس عکاسی پر کئی حلقوں کی جانب سے انگلیاں بھی اٹھیں اور وہ رفتہ رفتہ متنازعہ لب و لہجے اور انداز کی ادیبہ قرار دے دی گئیں۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ کملا داس کے قلم میں نسائی کیفیات کو بیان کرنے میں جادؤئی انداز تھا جو شاید ہی بھارت کی کسی مصنفہ کو حاصل نہیں ہوا۔

Indianischer Tanz

بھارت کی نوجوان لڑکیاں کسی خاندانی تقریب میں شریک

کملا داس کا بچپن اور جوانی کلکتہ یا کولکٹہ میں گزرا۔وہ افسانے، کہانیاں اور شاعری ملیالم اور انگریزی میں بیک وقت لکھتی تھیں۔ وہ اِس حوالے سے خوش قسمت بھی تھیں کہ شادی کے بعد اُن کے شوہر نے بھی اُن کی بہت حوصلہ افزائی کی۔ وہ گھر گرہستی والی خاتون اور ماں تھیں۔ اِس لئے لکھنے کا وقت اُن کے پاس صرف رات کو بچتا تھا۔ رات کے خاموش لمحوں میں انہوں نے زوردار اور تند لہجے والی نظمیں اور کہانیاں تخلیق کیں جو انتہائی معتبر تصور کی جاتی ہیں۔ اِن نظموں اور کہانیوں نے ادبی حلقوں میں ایک شور پیدا کردیا۔

کملا داس بھارت کے بڑی آبادی والے شہر کولکٹہ میں رہتے ہوئے بھی ، غربت و افلاس کے بکھرے جا بجا مناظر کے درمیان امید افزا استعاروں میں تخلیقات کرتی تھیں۔ خود بھی وہ بیماری کے ساتھ تمام عمر لڑتی جگڑتی رہیں۔ مگر اُن کے فن پاروں میں یاسیئت موجود تو ضرور ہے لیکن وہ اُس شدت کے ساتھ نہیں جو اکثر خواتین شعراء اور نثرنگاروں کا شعار ہے۔ اُنہوں نے اپنی بیماری کو بھی مثبت انداز میں اپنی تخلیقات میں سمویا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کملا داس کو کئی تنازعات کا شکار ہونا پڑا کیونکہ اُن کی نظموں اور نثر پاروں میں خواتین سے متعلق نازک احساسات کے لئے ملفوف الفاظ اور اشارے کھُلے بندوں اور صاف انداز نمایاں تھے۔ جو ایک قدامت پسند معاشرے سے برداشت ہونا مشکل تھا۔ اِس پر ادب میں اخلاقی اقدار کے داعی ناقدین ہاتھ دھو کر اُن کے پیچھے پڑ گئے مگر وہ بھی اپنی ضد پر قائم رہیں اور اپنے انداز کو جاری و ساری رکھا۔

جنسی جذبات اور رویوں کو واضح انداز میں پیش کرنے میں بھی اُنہیں کوئی خوف نہیں آتا تھا۔ اُن کی جوانی کے دور کی نظموں میں بھی بے باکی عیاں ہے۔ حالانکہ اُس وقت عام خواتین شعراء نوخیز عمر کے محبت اور تعلُقات پر مبنی شاعری کیا کرتی تھیں مگر یہ اُسلُوب اُن کا عکاس نہیں۔ تب بھی انہوں نے نو عمری کے پھوٹتے جنسی جذبات کا واشگاف انداز میں اپنی نظموں میں اظہار کیا۔

Protest gegen Bollywood Film Girlfriend in Indien

بھارت کا نسائی معاشرہ کئی تہوں میں لپٹا ہے اور اُس کو کملا داس نے اپنی تحریروں میں کھولنے کی کوشش کی تھی۔

کملا داس نے اپنی شاعری اور کہانیوں میں بھارتی معاشرے میں خواتین کو جن پابندیوں کا سامنا ہے، گھر اور بچوں کی پرورش میں جس طرح کی تکالیف اور مشقتوں کا اُس کو سامنا ہے، وہ کملا داس نے اپنے فن پاروں میں بیان کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اُن مسائل اور مشکلات کا کھُل کر احاطہ کیا ہے۔ اِس مناسبت سے کہا جاتا ہے کہ بہت سارے ناقدین نے اُن کی تحریروں سے انصاف نہیں کیا اور بڑے سخت الفاظ میں انہیں رد کرنے کی کوشش کی۔ کملا داس نے اِن تنقیدوں کا حوصلے سے مقابلہ کیا۔

اپنے دور میں متنازعہ رہنے والی ادیبہ اور شاعرہ نے سن اُنیس سو ننانوے میں ایک اور تنازع کوجنم دیا جب بھگوان کرشن کی رادھا کہلوانے کملاداس نے مذہب اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے اپنا نیا نام کملا ثریا تجویز کیا۔ وہ مرتے دم تک کملا ثریا ہی رہیں۔ انہوں نے سر پر باقاعدہ دوپٹہ رکھنا شروع کردیا تھا۔

آخری وقت میں ان کو کئی عوارض کا سامنا تھا۔ اِن تمام عارضوں کے ساتھ وہ پچھتر برس شان سے زندہ رہیں وہ شاعری اور نثر کی بیس سے زائد کتابوں کی خالق ہیں۔