1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کمسن ملازمین پر تشدد کا سبب، معاشرتی رویے یا ریاستی غفلت؟

ایک خاتون ایم پی اے کی صاحبزادی کے گھریلو ملازم پر مبینہ تشدد کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد انسانی حقوق کے کارکنان کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ  پاکستان میں چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کے حوالے سے کیا قانون سازی کی گئی ہے۔

Title Kinderarbeit in Pakistan (DW/I. Jabeen )

طاہرہ عبداللہ کے مطابق چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کو ملکی قوانین میں خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی

پاکستان ميں مقامی میڈیا کے مطابق لاہور کے اکبری منڈی نامی علاقے میں ایک خاتون رکن صوبائی اسمبلی شاہ جہاں کی بیٹی فوزيہ کی جانب سے اُن کے گھریلو ملازم اختر علی پر تشدد کا الزام ہے جس کے باعث اختر علی کی ہلاکت ہوئی۔ تاہم اُن کی صاحبزادی فوزیہ نے ضمانت قبل از گرفتاری لے رکھی ہے۔

فوزیہ کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر اختر علی کی بہن عطیہ نے درج کرائی ہے۔ پاکستان کے مقامی اخبارات اور ٹی وی چینلز نے اس مقدمے پر آج ہونے والی عدالتی کارروائی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ملزمہ فوزیہ کو قبل از گرفتاری ضمانت دے دی گئی ہے اور اب مقدمے کی آئندہ سماعت بیس جولائی کو ہو گی۔

دوسری جانب میڈیا ہی کی اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر قتل کيے جانے والے کمسن اختر علی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تصدیق کی گئی  ہے کہ اُس پر تشدد ہوا تھا۔

پاکستان میں آئے دن گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں بھی ایک بچی طیبہ پر ایک جج کی بیوی کے مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا جس پر پاکستانی سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن بھی لیا اور یہ مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے۔

 ایسے واقعات کسی معاشرے میں کیوں جنم لیتے ہیں؟ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سر گرم کارکن طاہرہ عبداللہ نے ڈوئچے ویلے سے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا بد سلوکی اور تشدد کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کی فطرت ہوتی ہے۔

طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ بچوں اور بچیوں کے محنت اور مزدوری کرنے کے خلاف نہ صرف پاکستان میں قوانین موجود ہیں بلکہ پاکستان کے قیام سے پہلے برطانوی راج میں بھی ایسے قوانین موجود تھے۔ طاہرہ عبداللہ کے مطابق ، ’’سن 2013 سے سن 2016 تک چاروں صوبوں نے چائلڈ لیبر کے حوالے سے قوانین کو زیادہ مضبوط کیا۔ لیکن دوسری جانب یہ امر قابل افسوس ہے کہ اس میں وہ بچے شامل نہیں جنہیں اُن کے ماں باپ دوسروں کے گھروں میں کام کے لیے بھیجتے ہیں ۔ یعنی چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کو ملکی قوانین میں خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔‘‘

طاہرہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ کم سن گھریلو ملازمین کے ساتھ بد سلوکی میں نہ صرف اُن کے والدین کی غفلت شامل ہے بلکہ ریاست بھی اپنا کردار درست طور پر ادا نہیں کر رہی۔

سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں مزید کہا کہ بچوں کی محنت مشقت کے لیے غربت کو بہانہ بنانا درست نہیں۔ بچوں کو تعلیم اور تحفظ مہیا کرنا اور اُن کی بہبود کے لیے قانون سازی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

DW.COM