1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کمسن بیوی کے ساتھ جنسی تعلق ’ریپ‘ شمار ہو گا، بھارتی سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرنے کو بھی ریپ کے برابر جرم ہی قرار دیا جائے گا خواہ ایسا شادی کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔ بھارت میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر اٹھارہ برس ہے۔

انڈیا کی عدالت عظمیٰ کے اس حکم کے ساتھ ہی اُس قانونی جھول کو ختم کر دیا گیا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض مجرم سزا سے بچ جایا کرتے تھے۔ انڈیا میں لڑکیوں کی شادی کے لیے مقرر کردہ قانونی عمر اٹھارہ سال ہے لیکن اس عمر سے کہیں کم عمر کی لاکھوں بچیوں کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ ایسا عموماﹰ بھارت کے پسماندہ دیہی علاقوں میں ہوتا ہے۔

اس سے قبل بھارت میں جنسی زیادتی کے قوانین میں شادی شدہ جوڑوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یعنی اگر ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ اُس کی مرضی کے بغیر جسمانی تعلق قائم کیا جاتا تو اسے شادی کے بندھن میں رہتے ہوئے جنسی زیادتی تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم اب اعلیٰ ترین بھارتی عدلت کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا میں فریقین کی رضامندی کے سخت قوانین سے متنازعہ عمل ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق مستقبل میں پولیس کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ ایسے مقدمات کو سنے جن میں زیادتی کی شکار لڑکی کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہو اور وہ زیادتی ہونے کے ایک سال کے اندر شکایت بھی درج کرا دے۔

 اس معاملے پر سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرانے والے وکیل وکرم شری واستو نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لڑکیوں کو تحفظ حاصل ہو گا۔

شادی کے بعد بغیر رضامندی کے جنسی تعلق قائم کرنے کو ’ریپ‘ قرار دینے سے متعلق کئی مقدمات پہلے ہی بھارت کی مختلف ریاستوں کئی فوجداری عدالتوں میں سماعت کے منتظر ہیں۔

DW.COM