1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کمزور ہوتی القاعدہ اور افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء

مبینہ امریکی ڈرون حملوں میں مشتبہ انتہاپسندوں کی ہلاکت کے تناظر میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سے القاعدہ اور اس سے وابستہ طالبان کمزور ہونے لگی ہے اور یہ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء میں معاون ہو سکتا ہے۔

default

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کی ہے اور اس کے مطابق شورش زدہ ملک افغانستان میں کمزور ہوتی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی وجہ سے وہاں تعینات غیر ملکی فوجوں کا انخلاء تیز رفتاری سے ممکن ہو سکتا ہے۔ القاعدہ اور طالبان کے اندر پیدا ہونے والی کمزوری کی ایک وجہ ان کے مرکزی لیڈروں کی مختلف خفیہ مشنز اور ڈرون حملوں میں ہلاکت بتائی جاتی ہے۔

ہفتہ کے روز اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اب تک القاعدہ کے تیس میں سے بیس نمایاں لیڈر ڈرون حملوں اور دوسرے خفیہ آپریشنز میں ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ ان لیڈروں میں خاص طور پر اسامہ بن لادن کی ہلاکت خفیہ آپریشن کا نتیجہ ہے۔ بعد میں ایک ڈرون حملے میں الیاس کشمیری کی ہلاکت بھی بتائی جاتی ہے۔ القاعدہ کے اہم اور بھاری شخصیت کے حامل ان لیڈروں کی ہلاکت سے نچلی صفوں میں انتشار اور بے بسی کا پیدا ہونا یقینی خیال کیا جا رہا ہے۔

Flash-Galerie Bundeswehr-Einsatz in Afghanistan

افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلا سن 2014 میں مکمل ہو گا

نیو یارک ٹائمز نے ان زمینی حقائق کی روشنی میں اعلیٰ امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ نیٹو کی جانب سے افغانستان میں متعین غیر ملکی افواج کی واپسی کا سفر تیز رفتاری سے مکمل ہو جائے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ طالبان کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل نتیجہ خیز ثابت ہوا تو یہ افغانستان سے امریکہ سمیت دوسرے غیر ملکی فوجوں کی اپنے اپنے ملکوں کو واپسی کے لیے سیاسی بنیاد بھی فراہم کر سکتا ہے۔

جمعہ کے روز معمول کی پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے افغانستان سے فوجوں کی تیز رفتار واپسی کے حوالے سے کوئی ری ایکشن نہیں دیا تھا۔ طالبان کے ساتھ جاری بات چیت اور فوجوں کے ممکنہ تیز رفتار انخلاء کے حوالے سے امریکی ردعمل ابھی سامنے آنا باقی ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں شائع ہوئی ہے جب افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان کے ساتھ امریکی بات چیت کا اشارہ دیا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکہ کے انتہاپسند طالبان کے ساتھ شروع کسی مذاکراتی عمل کی سرکاری طور پر تصدیق کی گئی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے دارالحکومت کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور غیر ملکی فوجیں، خاص کر امریکہ یہ مذاکرات خود جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے پہلے سفارت کاروں کی طرف سے کئی مرتبہ یہ کہا گیا تھا کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ابتدائی نوعیت کی بات چیت کئی مہینوں سے جاری ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس