1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

کمر کے نچلے حصے کا درد، علاج اور احتیاط

کمر کے نچلے حصے کا شدید درد ایک عام شکایت ہے جو اکثر چند روز یا ہفتوں کے اندر خود بخود ہی دور ہو جاتی ہے۔ تاہم چند مریضوں میں یہ بیماری کہنہ یا دیرینہ ہوتی ہے۔

default

کمر کے نچلے حصے کا درد عموماً ریڑھ کی ہڈی اس کے پٹھوں اور نسیجوں کے تناؤ یا کھچاؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ درد نہایت سنگین صورت بھی اختیار کر سکتا ہے اورسرطان یا ریڑھ کی ہڈی سے متعلق ایسے مسائل کا موجب بن سکتا ہے جو اعصابی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عُضلاتی اور ہڈیوں کے نظام سے متعلق کمر کے نچلے حصے کے درد کی بیماری کی تشخیص کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس کی سنگین وجوہات کے امکانات پرغورکریں۔

اس بارے میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ایکسرے، کمپیوٹر ٹوموگرافی، سی ٹی اسکین، میگنیٹک ریزوننس ایمیجنگ ایم آر آئی اور دیگر ٹیسٹوں کا رواج بہت بڑھ گیا ہے تاہم امریکہ کے کال آف فزشنز ACP کی کلینیکل گائیڈ لائنز کمیٹی کی ایک تازہ رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ روٹین کے ٹیسٹ جن میں ایکسرے، سی ٹی اسکیننگ اور ایم آر آئی وغیرہ شامل ہیں، مرض کی تشخیص میں آسانی کے بجائے مریضوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

Senioren im Fitness Studio mit Thumbnail

کمر کے نچلے حصے کے درد کے علاج کے لیے جسمانی ورزش بھی مؤثر ہوتی ہے

کمر کے نچلے حصے کے درد کے علاج کا اولین مقصد درد دور کرنا اور مریض کی معمول کی سرگرمیوں کو بحال کرنا ہونا چاہیے- اس کے لیے درد کُش، سوزش دور کرنے اور تناؤ کے شکار پٹھوں کے لیے سکون آور ادویات اور جسمانی ورزش وغیرہ موثر ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس تکلیف کا علاج غیر روایتی طریقوں مثلاً آکوپنکچر، مساج یا مالش، جسمانی ورزش اور یوگا وغیرہ کے ذریعے بھی کیا جا تا ہے۔ بسا اوقات مریضوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کے لیے علاج کے ان مختلف طریقوں میں سے ایک یا دو کا انتخاب مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکی طبی ماہرین کی تازہ ترین تحقیق کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ڈاکٹروں کو کمر کے نچلے حصے کے درد میں مبتلا مرض کی تشخیص کے لیے ایکسرے، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور دیگر ٹسٹس یا معائنے اُس وقت تک نہیں کروانے چاہئیں جب تک انہیں کسی ایسی بیماری کا شبہ نہ ہو، جس کا تعلق اعصابی نقص سے ہو۔

اگر کسی مریض میں اعصابی ضرر کی علامات ظاہر ہو جائیں تو اس کا علاج سرجری اور ریڑھ کی ہڈی میں انجکشن کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ ایسے مرض کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پہلے نمبر پر ایم آر آئی اور دوسرے پر سی ٹی اسکین نہایت اہم ثابت ہوتا ہے۔

امریکہ کے کالج آف فیزیشنز کے ایک سینیئر میڈیکل آفیسرعامر قاسم کے بقول، ’ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ یہ معاملہ محض اُن ٹیسٹوں یا معائنوں کا نہیں ہے، جن پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں بلکہ یہ مریضوں کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں‘۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM