1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’کمر پر نازی ٹیٹو‘جرمن سیاستدان کے خلاف مقدمہ درج

جرمن دفتر استغاثہ نے کہا ہے کہ انہوں نے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کے الزام میں مقدمہ قائم کر لیا ہے۔ اس سیاستدان کی کمر پر نازی ٹیٹو بنا ہوا تھا۔

مشرقی جرمن صوبے برانڈنبرگ کے علاقے نوئےروپن کے دفتر استغاثہ کی ترجمان لولیتا لوڈنکیمپر نے آج بدھ کے روز بتایا کہ مارسیل زیش نامی سیاستدان پر پابندیوں سے متعلق ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جرمنی میں نازیوں کے ہر طرح کے نشانات استعمال کرنے پر پابندی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مارسیل زیش جب سوئمنگ کرنے گئے تو وہاں پر موجود ایک شخص نے اس ٹیٹو کو دیکھ کر ان کے خلاف حکام کو مطلع کیا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سوئمنگ پول میں موجود شخص نے اس ٹیٹو کی تصویر اتاری۔ مارسیل کی پیٹھ پر لکھا تھاJedem das Seine اور نازی اس کا مطلب اس طرح سے کرتے تھے کہ ہر شخص کو وہی ملے گا، جس کا وہ حق دار ہے۔ یہ واقعہ 21 نومبر کو شمالی برلن کے علاقے اورانیئن برگ میں پیش آیا۔ اے پی نے مزید بتایا کہ متعلقہ شخص نے اپنی تصویر کے ہمراہ فوری طور پر حکام سے رابط کیا۔

27 سالہ مارسیل زیش کا تعلق انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے، جس کے ارکان ضلعی انتظامیہ میں بھی موجود ہیں۔ زیش پر اگر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اسے پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل بھی جرمنی اور یورپ کے مختلف ممالک میں سواستیکا کا نشانہ بنانے پر متعدد افراد سزائیں بھگت چکے ہیں۔

آؤشوٹس پولینڈ میں نازیوں کا سب سے بڑا اذیتی کیمپ تھا جو 1940ء سے 1945ء کے عرصے میں فعال رہا۔ اس کیمپ کے گیس چیمبروں میں تقریباﹰ نو لاکھ افراد کو ہلاک کیا گیا جن میں سے بیشتر یہودی تھے۔ اسی کیمپ میں قتل، بھوک اور بیماری کی وجہ سے مزید دو لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔