1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کمبوڈیا میں بھگڈر مچنے سے 349 افراد ہلاک

کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنھ میں ایک فیسٹیول کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 349 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق بیشتر اموات دَم گھٹنے کے باعث ہوئیں جبکہ چار سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔

default

یہ حادثہ پیر کی شام دارالحکومت نوم پنھ میں جاری ایک فیسٹیول کے موقع پر پیش آیا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہاں بھگدڑ کیوں مچی۔ مرنے والوں میں بیشتر نوجوان ہیں۔

تاہم حکومتی ترجمان Khieu Kanharith نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پرجوش افراد کا ہجوم ایک پُل پر سے گزر رہا، جب کسی نے پُل کے کمزور ہونے کی افواہ پھیلا دی، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انہوں نے اِدھر اُدھر بھاگنا شروع کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہجوم اس قدر زیادہ تھا کہ انہیں بھاگنے کی راہ نہیں ملی۔

کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن سین نے اس حادثے کو گزشتہ تین دہائیوں میں ملکی تاریخ کا تاریک ترین لمحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جمعرات کو قومی سوگ منایا جائے گا۔

وزیر اعظم نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے عزیزوں سے گہرے دُکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حادثے کی وجوہات کا پتہ چلانے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔

ہن سین نے کہا کہ ابھی تک حادثے کی وجہ واضح نہیں اور اس کے لئے مزید تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا، ’ہم ڈائمنڈ آئلینڈ جانے کے لئے پُل عبور کر رہے تھے جبکہ دوسرے جانب سے لوگوں نے دھکے دینا شروع کیا۔ لوگ خوف میں مبتلا تھے اور بری طرح چیخ رہے تھے۔‘

Kambodscha Wasserfest in Phnom Penh

فیسٹیول کے دوسرے روز آتش بازی کا منظر

اس 23 سالہ نوجوان نے کہا کہ لوگ بھاگنے کی کوشش میں ایک دوسرے کے اوپر گرنے لگے۔ اس نے بتایا کہ وہ بھی گر گیا تھا لیکن خوش قسمتی سے کچھ لوگوں نے اسے کھینچ لیا۔

عینی شاہدین کے مطابق بعض افراد جان بچانے کے لئے پانی میں کُود گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ پُل قریبی ڈائمنڈ جزیرے کا راستہ ہے اور زیادہ کشادہ نہیں ہے۔

کمبوڈیا بھر سے لاکھوں افراد تین روزہ سالانہ واٹر فیسٹیول میں شرکت کے لئے دارالحکومت پہنچے تھے۔ پیر کو فیسٹیول کا آخری دِن تھا۔ یہ کمبوڈیا کا سب سے بڑا میلہ ہے، جو مچھلی کی فراہمی اور زمین کی زرخیزی کے لئے دریاؤں کی شکرگزاری کا ایک طریقہ بھی مانا جاتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس