1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کل کی بھکارن کیا فرانسیسی سینیٹر بن جائے گی؟

روما برادری سے تعلق رکھنے والی انینا کیوکیو جو کبھی بھیک مانگا کرتی تھیں، اتوار کے روز فرانس میں روما برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی رکنِ سینیٹ بن سکتی ہیں۔

27 سالہ کیو کیو قانون کے شعبے کی طالب علم ہیں۔ کیو کیو کا کہنا ہے کہ وہ فرانس کی انتہائی پسماندہ روما برادری کے لیے ’راستہ ہم وار‘ کرنا چاہتی ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ فرانس میں بیس ہزار کے قریب روما باشندے نہایت غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں عدم مساوات کا سامنا رہتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کیو کیو نے کہا، ’’میں بھکارن تھی اور میں مستقل تذلیل کا شکار ہوتی تھی، میری کہانی یہ بتاتی ہے کہ سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔‘‘

'عینک والا جن کی ’بل بتوڑی‘ بھیک مانگنے پر مجبور‘

بھارت: ہر چوتھا بھکاری مسلمان

’یہ بچے پھر بھیک مانگتے نظر آئیں گے‘ ایک اور پولیس آپریشن

فرانس سے روما خانہ بدشوں کا انخلا شروع

کیو کیو سات برس کی تھیں، جب ان کا خاندان رومانیہ میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے اور اقتصادی بحران کے عروج کے دنوں میں ملک چھوڑ آیا تھا۔

کیو کیو کے والد اکاؤنٹنٹ تھے اور انہوں نے اپنے اہلیہ اور تین بیٹیوں کے ساتھ سابقہ یوگوسلاویہ کی سرحد پیدل پار کی تھی اور اس دوران وہ ان علاقوں سے بھی گزرے تھے، جہاں باردوی سرنگیں بچھی ہوئی تھیں۔ اس طرح وہ روم پہنچے۔

ویڈیو دیکھیے 02:45

ڈیجیٹل خانہ بدوش کیسے کام کرتے ہیں

کیو کیو کے مطابق، ’’ہم نے اپنی زندگیوں کو ویسے ہی خطرے میں ڈالا تھا، جیسا آج یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کر رہے ہیں۔‘‘

اطالوی دارالحکومت روم کے نواح میں اس خاندان نے چھ ماہ تک ایک مہاجر بستی میں گزارے اور پھر فرانس منتقل ہو گئے۔

’میرے والد ہمیں انسانی حقوق کی سرزمین پر بہتر مستقبل دینا چاہتے تھے۔‘‘

تاہم فرانس میں اس خاندان کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو گئی اور اس خاندان کو بھیک مانگ کر زندگی گزارنا پڑی۔

اسی دوران ایک اسکول ٹیچر جیکلین دع لا رونتائن مشرقی شہر لیون میں اس خاندان کی زندگی میں آئیں اور اس استانی نے ان بچوں کو اسکول تک پہنچایا اور یہیں سے ان بچوں نے اپنے اپنے خوابوں کا تعاقب شروع کر دیا۔

ویڈیو دیکھیے 04:18

رومانیہ کی خاتون فوٹوگرافر

کیو کیو نے ہائی اسکول امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور اب وہ فرانس کی معروف اور قابل تکریم جامعہ سوربون میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

سن 2013ء میں انہوں نے ایک کتاب تحریر کی تھی، ’میں جپسی ہی اچھی ہوں۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ اس کتاب کی اشاعت کی وجہ سے انہیں فرانس کی شہریت بھی ملنے میں آسانی ہوئی تھی، تاہم ان کے خاندان کے دیگر افراد اب بھی فرانسیسی شہریت کے حامل نہیں ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic