1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کلیسا میں ماں باپ کے ہاتھوں انیس سالہ بیٹے کا قتل

امریکی ریاست نیو یارک کے ایک کلیسا میں ایک شادی شدہ جوڑے نے اپنے انیس سالہ بیٹے کو قتل کر دیا۔ پولیس نے مقتول کے والدین کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس واقعے میں مقتول کا ایک سترہ سالہ بھائی شدید زخمی بھی ہو گیا۔

یارک سے بدھ چودہ اکتوبر کو ملنے والی کیتھولک نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق مقتول نوجوان کے 65 اور 59 سالہ والدین اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ اسی واقعے میں اس کلیسا کے وہاں موجود ارکان نے مقتول کے ایک 17 سالہ بھائی کو بھی مار مار کر شدید زخمی کر دیا۔ اس لڑکے کو زخمی کرنے کے الزام میں چار دیگر کلیسائی ارکان بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ نیو ہارٹ فورڈ کے علاقے میں مسیحی برادری کے ’ورڈ آف لائف کرسچن چرچ‘ نامی کلیسا میں پیش آیا۔ اس واقعے میں مقتول کے والدین نے اپنے بڑے بیٹے کو اتنا پیٹا کہ وہ پیٹ، رانوں اور کمر پر لگنے والی چوٹوں کی وجہ سے انتقال کر گیا۔

اس دوران کلیسا میں موجود دیگر افراد نے مقتول کے ایک چھوٹے بھائی کو بھی اتنا پیٹا کہ وہ شدید زخمی ہو گیا اور اس وقت وہ ایک قریبی ہسپتال میں زیر علاج ہے، جہاں اس کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

پولیس نے مقتول، اس کے شدید زخمی ہو جانے والے بھائی یا والدین میں سے کسی کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی تفصیلات بتائی گئی ہیں کہ اس جرم کا پس منظر کیا ہے یا اس کلیسا میں کس طرح کے حالات پیش آئے کہ نتیجہ ایک نوجوان کی اپنے ہی والدین کے ہاتھوں موت کی صورت میں نکلا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق نیو ہارٹ فورڈ میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا، Word of Life Christian Church کے قریب ہی واقع ایک کیتھولک کلیسا کے ایک پادری نے بتایا، ’’جہاں یہ واقعہ رونما ہوا، میں اس جگہ کے بارے میں واقعی زیادہ کچھ نہیں جانتا۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ یہ کوئی نارمل کلیسا نہیں ہے۔‘‘