1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کلچکو باکسر برادران پر فلم نیویارک فلم فیسٹیول میں

بیس اپریل کو امریکی شہر نیویارک میں شروع ہونے والا 10 واں ٹرائی بیکا فلمی میلہ یکم مئی کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ اِس میلے میں شامل فلموں میں مشہور باکسر برادران کی داستانِ حیات پر مبنی جرمن فلم ’کلچکو‘ بھی شامل ہے۔

ولادی میر اور وطالی کلچکو

ولادی میر اور وطالی کلچکو

یہ فلم عالمی چیمپیئن باکسر ولادی میر کلچکو اور اُس کے بھائی وطالی کلچکو سے موسوم ہے اور اِس کا پریمیئر شو نیویارک کے بین الاقوامی ٹرائی بیکا فلمی میلے میں منعقد کیا گیا۔ اِس پریمیئر شو کے موقع پر خود ولادی میر کلچکو بھی موجود تھے تاہم فوٹوگرافرز نے اُن سے کہیں زیادہ دلچسپی اُن کی گرل فرینڈ اور مشہور اداکارہ ہیڈن پینیٹیئر میں ظاہر کی۔ شاید اس دلچسپی کی وجہ یہ بھی ہو کہ جہاں ولادی میر کلچکو کا قد ایک میٹر 98 سینٹی میٹر ہے، وہاں اُن کی گرل فرینڈ پینیٹیئر کا قد صرف ایک میٹر 55 سینٹی میٹر ہے۔

کلچکو برادرز کے بارے میں یہ فلم 43 سالہ جرمن فلمساز و ہدایتکار سیباستیان ڈیہن ہارٹ کی تخلیق ہے، جنہوں نے ایک طویل عرصہ اِن باکسر بھائیوں کے ساتھ گزارا ہے اور اب 112 منٹ دورانیے کی اِس فلم میں نہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ کیسے اِن بھائیوں کو باکسنگ کی دُنیا میں عروج حاصل ہوا بلکہ یہ بھی کہ اِن کے معمولاتِ زندگی کیا کیا ہیں۔ دونوں بھائیوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی، جب 2008ء میں باکسنگ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو بھائی ایک ہی وقت میں اِس کھیل کے عالمی اعزازات کے مقابلوں میں حصہ لے رہے تھے۔ یہ فلم اِس سال موسمِ گرما میں جرمن سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

امریکی اداکار رابرٹ ڈی نیرو

امریکی اداکار رابرٹ ڈی نیرو

نیویارک میں ٹرائی بیکا نامی اِس فلمی میلے کا آغاز ہالی وُڈ کے مشہور و معروف اداکار رابرٹ ڈی نیرو اور فلم پروڈیوسر جین روزن تھال نے 2002ء میں کیا تھا اور اِس کا مقصد گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ واقعات کے بعد نیویارک کے متاثرہ علاقے TriBeCa کو ایک بار پھر بارونق بنانا تھا۔ یہ علاقہ اُن حملوں میں تباہ ہو جانے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بالکل ہی قریب واقع ہے۔

اِس بارہ روزہ فلمی میلے کے موقع پر صرف فلموں کی ہی نمائش نہیں ہوتی بلکہ گلیوں میں میلے سجائے جاتے ہیں، اسٹیج ڈرامے منعقد کیے جاتے ہیں اور مذاکروں اور مباحثوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اب تک اِس میلے میں 80 ممالک کی گیارہ سو سے زیادہ فلموں کی نمائش ہو چکی ہے۔

اِس بار اِس میلے کے منتظمین کو پانچ ہزار سے زیادہ فلمیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے بالآخر تقریباً 190 فلمیں نمائش کے لیے منتخب کی گئیں، جن میں 93 فیچر اور 41 دستاویزی فلمیں بھی شامل ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: شامل شمس

DW.COM