1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کلنٹن کی جانب سے شامی کردوں کی حمایت، ترک وزیر اعظم برہم

ترک وزیراعظم نے امریکی صدارتی امیدوار ہلیری کلٹن کے شامی کردوں کی حمایت کرنے کے بیان پر خفگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کے بیان کی مذمت کی ہے۔

Militärische Ausbildung für Kurden in Deutschland (picture-alliance/AP Images/M. Sohn)

کرد فائٹرز جنگی تربیت حاصل کرتے ہوئے

امریکی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے اتوار نو اکتوبر کو ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے مباحثے میں کہا تھا کہ وہ اگر منتخب ہو گئیں تو شام میں مزاحمتی سرگرمیوں میں مصروف کُرد فائٹرز کو ہتھیار فراہم کرنے پر غور کر سکتی ہیں۔ اس ریمارک پر ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے نارضی کا اظہار کرتے ہوئے کلنٹن پر تنقید کی ہے۔

یلدرم نے اپنے تنقیدی بیان میں کہا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ لڑائی میں مصروف دوسری دہشت گرد تنظیم کی حمایت کس اخلاقی اصول پر ہے۔ ترک وزیراعظم کے مطابق کیا ترکی امریکی اتحادی نہیں ہے اور کیا اُن کا ملک مغربی دفاعی اتحاد کا رکن نہیں ہے۔ انہوں نے امریکا سے سوال کیا کہ موجودہ حالات میں ترکی کا اتحادی ملک کس اصول کے تحت ہتھیاروں کا مقابلہ ہتھیاروں کی فراہمی سے کر رہا ہے۔ یلدرم کے مطابق دنیا بھر میں ایسا نہیں دیکھا گیا کہ دہشت گردوں کی اِس انداز میں حمایت کی جائے۔

US TV Debatte Trump vs Clinton (Getty Images/AFP/J. Bourg)

ہلیری کلنٹن ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیں

صدارتی الیکشن کے دوسرے مباحثے میں ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ شام اور عراق میں کر فائٹرز اُن کے بہترین پارٹنر ہیں۔ کلنٹن کے مطابق کرد اور عرب فائٹرز کو یقینی طور پر ہتھیاروں کی ضرورت ہے تا کہ وہ داعش کو عراق سے نکال باہر کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے مرکز الرقہ کو بازیاب بھی کرا سکیں۔

دوسری جانب ترک حکومت اِس پر بھی مایوسی کا شکار ہے کہ امریکی حکام ترکی میں جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے پس پردہ امریکا میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے والے مبلغ فتع اللہ گولن کو گرفتار کر کے ترکی کے حوالے کرنے سے کترا رہی ہے۔ فتح اللہ گولن ترک حکومت کے تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

امریکی الیکشن میں دوسرے صدارتی مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کردوں کی حمایت میں بظاہر کوئی ریمارک نہیں دیا۔ ٹرمپ رواں برس جولائی میں یہ ضرور کہہ چکے ہیں کہ وہ کردوں کے زبردست حامی ہیں۔ کرد فائٹرز کی پیشقدمی پر انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تلخی پائی جاتی ہے۔ ترکی کرد فائٹرز کو ہتھیاروں کی فراہمی پر بھی پریشان ہے کیونکہ اُس کو یہ خوف لاحق ہے کہ انجام کار یہ ہتھیار کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے تحویل میں پہنچ جائیں گے اور اُس کے جنگجو انہیں انقرہ کی فوج کے خلاف  استعمال کر سکتے ہیں۔

شام کے شمالی حصے میں ڈیموکریٹک سیریئن فورسز کو امریکی حمایت حاصل ہے اور اسی گروپ نے الحَسکہ سے پیش قدمی کرتے ہوئے مَنبِج کے اسٹریٹیجک قصبے تک ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں کو پسپا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔