1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

کلنٹن کتنی ماحول دوست ہیں؟

امریکا میں ماحول دوست ووٹرز صدارتی انتخابات میں ہلیری کلنٹن کو ووٹ ڈالیں گے اور اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ موحولیاتی تبدیلیوں میں انسانی کردار کو سرے سے ماننے سے ہی انکاری ہیں۔

ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متعدد بیانات میں کہہ چکے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اصل میں وجود نہیں رکھتیں بلکہ یہ ’چینیوں کو گھڑا ہوا خیال ہے، تاکہ امریکا کو پیداواری شعبے میں پیچھے چھوڑا جا سکے۔‘‘ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ صدر منتخب ہو گئے تو امریکا کو ماحولیات سے متعلق تمام وعدوں اور معاہدوں سے باہر نکال دیں گے۔ وہ توانائی کے قابل تجدید طریقوں کو بھی ’ناقابل اعتبار اور بکواس‘ قرار دیتے ہیں۔ دونوں صدارتی امیدواروں کا موازنہ کیا جائے، تو دونوں ان موضوع پر مکمل طور پر دو متضاد آراء کے حامی ہیں۔

ہلیری کلنٹن کا اس موضوع پر کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں فوری اور ٹھوس اقدامات کی متقاضی ہیں اور زمین کی بقا کو خطرے سے بچانے کے لیے وقت کی اہم ترین پکار یہی ہے کہ اس مسئلے سے نمٹا جائے۔ کلنٹن صدر اوباما کے دور میں طے پانے والے اہم عالمی معاہدوں کے احترام کرنے اور اس سلسلے میں صدر اوباما کے کلین پاور پلانٹ منصوبوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کر چکی ہیں۔ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ ضرر رساں گیسوں کی شرح کو سن 2005ء کے مقابلے میں سن 2020 تک 17 فیصد کم سطح پر لانا چاہتے ہیں۔

USA Rede Donald Trump in Miami

ماحولیات کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات تنقید کی زد میں رہے ہیں

ہلیری کلنٹن اپنی انتخابی مہم میں کہتی آئی ہیں کہ امریکا کو سن 2025 تک اپنی توانائی کی ضروریات کا 25 فیصد قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل کرنا چاہیے، جب کہ وہ اس شعبے میں مراعات دینے اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کا بھی کہتی آئی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں کلنٹن کا ساتھ دینے والے متعدد ماحول دوست تاہم ماضی میں موحولیات کے حوالے سے کلنٹن کے موقف پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ کلنٹن ماضی میں کی اسٹون ایکس ایل پائپ لائن منصوبے پر خاموش رہی ہیں جب کہ ماحول کے خلاف متعدد دیگر اقدامات پر بھی ان کی جانب سے کوئی ٹھوس بیان کبھی سامنے نہیں آیا۔

سن 2010ء میں جب کلنٹن وزیرخارجہ تھیں، تو انہوں نے شیل گیس کے حوالے سے ایک عالمی مہم کا آغاز کیا، جس کے تحت مختلف ممالک کو شیل گیس کے حصول میں معاونت فراہم کی گئی۔ اس گیس کو قدرتی گیس کے مقابلے میں کم کاربن پیدا کرنے والی گیس سمجھا جاتا ہے، تاہم ماحول دوستوں کا خیال ہے کہ شیل گیس کو خواہ مخواہ مفید بتایا جاتا رہا ہے اور اس کے استعمال کی وجہ سے کاربن کے اخراج کے ساتھ ساتھ اس کی تیاری کے دوران بھی ضرر رساں گیسوں کے اخراج کو سامنا رکھا جائے، تو ماحول کا نقصان خاصا زیادہ ۔

اس تمام باتوں کے باوجود ماحول دوست تنظیموں اور امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ کلنٹن ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ماحول کے حوالے سے بہتر علم رکھتی ہیں اور اسی لیے آئندہ انتخابات میں ان کا انتخاب کلنٹن ہی ہوں گی۔