1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کلنٹن پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی، ایف بی آئی

ہلیری کلنٹن پر سے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی تفتیش کے بادل چھٹنے کے بعد سے کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے لہجے بدل گئے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں سے جاری امریکی صدارتی انتخابات کی مہم چند گھنٹوں میں ختم ہونے والی ہے۔ 

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کے مطابق کلنٹن کی طرف سے بطور سیکرٹری خارجہ بھیجی جانے والی ای میلز منظر عام پر آنے سے ان پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔ ایف بی آئی کی طرف سے یہ بات رواں برس جولائی میں طے کر لی گئی تھی تاہم کومی نے ایک بار پھر اس معاملے کی چھان بین کی جس پر وائٹ ہاؤس، کلنٹن کی انتخابی مہم اور حکام کی طرف سے ان کے اس اقدام پر تنقید کی جا رہی تھی۔ کلنٹن اس سے قبل کہہ چکی تھیں کہ ایف بی آئی کو اِن ای میلز سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ ان میں کوئی حساس معلومات شامل نہیں ہیں۔

سابق خاتون اول اور وزیر خارجہ کلنٹن پر الزام تھا کہ وہ خفیہ اور سرکاری ای میلز کے لیے نجی کمپیوٹر سرور استعمال کرتی رہی تھیں اور جو سائبر حملے کا نشانہ بن گیا تھا۔ کلنٹن کی تعلقات عامہ کی ڈائریکٹر جینیفر پالمیری نے صحافیوں کو بتایا،’’ہمیں خوشی ہے کہ یہ معاملہ حل ہو گیا۔‘‘

USA Donald Trump Wahlkampf North Carolina

ہلیری کلنٹن قصور وار ہیں، وہ یہ جانتی ہیں، ایف بی آئی کو بھی اس کا علم ہے، ٹرمپ

دوسری جانب اس پیش رفت پر کلنٹن کے حریف ریپبلکن امیدوار ٹرمپ نےحیرت ظاہر کی ہے۔ ان کے بقول یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی جلدی تمام ای میلز کی چھان بین کر لی گئی، ’’ہلیری کلنٹن قصور وار ہیں، وہ یہ جانتی ہیں، ایف بی آئی کو بھی اس کا علم ہے اور عوام بھی اس حقیقت سے واقف ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیر خارجہ کو دھاندلی کے نظام کے تحت تحفظ دیا جا رہا ہے، ’’اب یہ امریکی عوام پر منحصر ہے کہ وہ آٹھ نومبر کو ووٹ کے ذریعے انصاف مہیا کریں‘‘۔

گزشتہ مہینے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے کانگریس کے ارکان کو بتایا تھا کہ ان کے ادارے کو کچھ نئی ای میلز ملی ہیں، جن کی چھان بین کی ضرورت ہے۔ کلنٹن کے ای میلز کے معاملے کی جولائی میں بھی تفتیش ہو چکی ہے۔ اس کے بعد کومی نے کہا تھا کہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوارکلنٹن نے اس سلسلے میں غلط بیانی سے کام نہیں لیا اور نہ ہی وہ قانون توڑنے کی مرتکب ہوئی ہیں۔ تاہم ان کے اس اقدام کو لاپرواہی سے تعبیر کیا گیا تھا۔