1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کلنٹن، ویت نام پر تنقید بھی اور بہتر تعلقات کی خواہش بھی

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ویتنام میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ویتنام اور امریکہ کے تعلقات دوستانہ ہیں۔ وہ اپنے ایک ہفتے کے دورے کی آخری منزل پر ہیں۔

default

امریکی وزیر خارجہ: ہلیری کلنٹن، فائل فوٹو

کلنٹن ایشیا پیسیفک سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے ویتنام کے دو روزہ دورے پر دارالحکومت ہنوئی پہنچ گئی ہیں۔ ہنوئی پہنچ کر امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ویتنام تمام معاملات پر تعاون اور رابطے قائم رکھے ہوئے ہیں حتیٰ کہ ان معاملات پر بھی جن پر اختلافات موجود ہیں۔

سابق کمیونسٹ ریاست ویتنام اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہونے کے پندرہ برس بھی رواں ماہ کے دوران مکمل ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے بقول دونوں ممالک اب ایک دوسرے کو سابق دشمن کے طور پر نہیں بلکہ ایک ساتھی اور دوست کی حیثیت سے دیکھے جاتے ہیں۔

Flash-Galerie Mächtige Politikerinnen Hillary Rodham Clinton

امریکی وزیر خارجہ کی مشرق بعید کے سابقہ دورے کی ایک تصویر

مشرقی ایشیائی ریاست سے امریکہ کے تعلقات میں گزشتہ کچھ عرصے میں کافی بہتری اور گرم جوشی پیدا ہوئی ہے۔ سابق حریف ممالک کے مابین دو طرفہ تجارت آٹھ گنا بڑھ چکی ہے۔ اس کی بنیاد 2001ء میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کو قرار دیا جاتا ہے۔ دو طرفہ تجارت کا موجودہ حجم سالانہ 16 ارب ڈالر ہے۔ گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق ویتنام میں سرمایہ کاری کرنے والے بیرونی ممالک میں امریکہ سر فہرست ہے۔

کلنٹن کے بقول ویتنام ایسی عظیم ریاست بننے جارہا ہے جس کے پاس لامحدود امکانات موجود ہیں۔ " اسی لئے ہم یہاں حکومتی مخالفین کی گرفتاریوں، مذہبی گروہوں پر حملوں اور انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں پر گہرے تحفظات رکھتے ہیں۔" امریکی وزیر خارجہ نے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ نامی تجارتی معاہدے میں ویتنام کی شمولیت کی بھی حمایت کی ہے۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ خطے کے آٹھ ممالک کے مابین یہ معاہدہ اگلے سال کے اواخر تک طے پاجائے۔

1965ء تا 75ء تک کی ویتنام جنگ میں امریکہ کی جانب سے جنگلات پر زہر آلود کیمیکل سپرے کے اثرات سے نمٹنے سے متعلق کلنٹن نے ہنوئی حکومت کو تعاون کا یقین دلایا۔

ویتنام کے وزیر خارجہ فیم یا کیم (PHAM GIA KHIEM) کا کہنا تھا کہ ہر ملک میں انسانی حقوق کی تعریف مختلف اور ثقافتی پس منظر کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ہنوئی میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا، " امریکی صدر اوباما کہہ چکے ہیں کہ اس حوالے سے کوئی حتمی راستہ نہیں اور ہر ملک اپنے حالات کی مناسبت سے اپنا راستہ منتخب کرے، اور انسانی حقوق کی اقدار کسی ملک یا قوم پر تھونپی نہیں جاسکتیں"

Flash-Galerie Vietnamkrieg

ویتنام جنگ میں امریکی فوجی جنگلات میں کمیونسٹ جنگجوؤں کے حملوں کی زد میں

ویتنام میں یک جماعتی حکومت پر مغربی حکومتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سیاسی آزادی میں اضاففے کا مطالبہ خاصا زور پکڑ چکا ہے۔ ویتنام کی حکومت فیس بک سمیت بعض دیگر ویب سائٹس کو بھی بلاک کرچکی ہے جبکہ مذہبی آزادی پر بھی پابندیاں ہیں۔

دریں اثنا کلنٹن نے ہنوئی میں آسیان تنظیم کے رکن دس ممالک کے وزراء سے بھی خطاب کیا۔ لگ بھگ چھ سو ملین کی آبادی والا یہ خطہ دنیا بھر میں امریکی برآمدات کی چھٹی بڑی منڈی ہے اور یہاں امریکی سرمایہ کاری چین سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس