1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کلنٹن خلیجی ممالک کے دورے پر

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن قطر اور سعودی عرب کے اہم دورے پر روانہ ہوگئی ہیں۔ اعلیٰ امریکی عہدیدار کے اس دورے کو ایران کے جوہری تنازعے اور مسلم دنیا کے ساتھ امریکی تعلقات کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔

default

اسی اثنا میں امریکی صدر باراک اوباما نے اسلامی ممالک کی تنظیم اوُ آئی سی Organisation of Islamic Coutries کے لئے واشنگٹن کا نیا مندوب بھی نامزد کردیا ہے۔

ہلیری کلنٹن خلیجی ممالک کے اس دورے کے دوران اسرائیل اور عرب دنیا کے مابین قیام امن کے فروغ کی اپنی کوششوں کا نئے سرے سے احاطہ کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کی عرب رہنماوں سے مجوزہ ملاقاتوں میں ایران کا معاملہ البتہ زیادہ اہمیت کا حامل رہے گا۔

Weltsicherheitsrat verurteilt Nordkorea

امریکہ، سلامتی کونسل کے ذریعے نئی ایران مخالف پابندیوں کے لئے چین کی حمایت چاہتا ہے

اس تنازعے سے متعلق حالیہ دنوں میں تیزی سے بدلتے حالات کے تناظر میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکہ ریاض حکومت سے اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کرے گا۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ سعودی حکام کے ساتھ یہ معاملہ چھیڑا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق چین کو ایران مخالف پابندیوں کے لئے راضی کرنے کے لئے سعودی عرب سے بیجنگ کے لئے تیل کی برآمد میں اضافے پر زور دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ چین توانائی کی ضروریات کے لئے زیادہ تر تیل ایران سے درآمد کرتا ہے۔ اس معاملے میں البتہ امکان بہت کم ہے کہ سعودی عرب کی شاہی حکومت امریکہ کا ساتھ دینے کی حامی بھرے گی ۔ مشرق وسطیٰ سے متعلق معاملات کے لئے سابق امریکی انتظامیہ کے مشیر آرون ڈیوڈ ملر کے بقول بیجنگ کے لئے تیل کی سپلائی بڑھانے میں سعودی عرب کا کوئی مفاد نہیں۔ ان کے مطابق سعودی حکام ویسے ہی گیارہ ستمبر کے بعد کے واقعات اور عرب، اسرائیل تنازع کی وجہ سے واشنگٹن سے نالاں ہیں۔

US-Präsident Obama mit dem saudischen König Abdullah

گزشتہ برس امریکی صدر باراک اوباما کی سعودی فرماں رواں شاہ عبداللہ کے ہمراہ ملاقات ہوئی تھی

ہلیری کلنٹن کی قطر میں ترکی کے وزیراعظم رجب طیب ایردوان سے ملاقات کا امکان ہے، ترکی عالمی سیاست کا وہ دوسرا اہم ملک ہے جو ایران پر پابندیوں کے اطلاق کی مخالفت کررہا ہے۔ مغربی عسکری اتحاد نیٹو کا رکن ہونے کے سبب عرب، اسرائیل تنازعے میں بھی انقرہ حکومت کا کردار انتہائی اہم ہے۔

دریں اثنا امریکی صدر باراک اوباما نے گزشہ روز مسلم دنیا سے تعلقات استوار کرنے اور قریبی شراکت پیدا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوہا میں منعقدہ US-Islamic World Forum میں نشر کئے گئے ایک ویڈو پیغام میں اوباما نے OIC کے لئے نئے امریکی مندوب کے نام کا بھی اعلان کیا۔ اوباما نے رشید احمد نامی بھارتی مسلمان کو اس تنظیم کے لئے واشنگٹن کے نمائندے کے طور پر نامزد کیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں گزشتہ سال مسلم دنیا سے مخاطب ہوتے ہوئے بش انتظامیہ کی غلطیاں نہ دہرانے اور اس تناظر میں نئے باب کے آغاز کا عزم ظاہر کیا تھا۔ مسلمان ممالک میں اس خطاب کو خاصا سراہا گیا تاہم اب بھی اسلامی ممالک میں اوباما سے اس تناظر میں عملی اقدامات کرنے کے مطالبے زبان زدعام ہیں۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت کشور مصطفیٰ

DW.COM