کلبھوشن یادیو کی اہل خانہ سے ملاقات اور سوشل میڈیا | حالات حاضرہ | DW | 26.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کلبھوشن یادیو کی اہل خانہ سے ملاقات اور سوشل میڈیا

پاکستان میں سزائے موت پانے والے سابق بھارتی فوجی افسر کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی اور بھارتی صارفین کی جانب سے مختلف طرز کے تبصرے جاری ہیں۔

پاکستانی اور بھارتی سوشل میڈیا صارفین کا ایک طبقہ اسلام آباد حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دے رہا ہے۔

کلبھوشن یادیو بھارت کا دہشت گرد چہرہ ہے، پاکستانی دفتر خارجہ

کلبھوشن کی اہل خانہ سے ملاقات

کلبھوشن اور اہلیہ کی ملاقات: بھارت کو پاکستانی تجویز منظور

معروف پاکستانی سماجی کارکن بینا سرور نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا۔ ’’نہایت خوشی کی بات ہے کہ بانیء پاکستان کے یوم ولادت اور کرسمس کے موقع پر یادیو کو اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کا موقع دیا گیا۔‘‘

ایک بھارتی سوشل میڈیا صارف روہیت سردانا کے مطابق، ’’پاکستان نے کلبھوشن کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دے دی۔‘‘

بھارتی نشریاتی ادارے دوردرشن نے بھی اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ بالآخر ایک طویل انتظار کے بعد وہ لمحات آ ہی گئے، جب کلبھوشن یادیو اپنے اہل خانہ سے مل رہے ہیں۔

تاہم دوسری جانب پاکستانی اور بھارتی صارفین اس موضوع پر بالکل متضاد دعوے کرتے رہے۔ بھارتی صارفین کی بڑی تعداد اس بات کی مذمت کر رہی تھی کہ اس ملاقات میں اہل خانہ اور کلبھوشن کے درمیان شیشے کی دیوار کیوں رکھی گئی کہ وہ ایک دوسرے سے نہ بغل گیر ہو سکے اور نہ مصافحہ کر سکے۔

ادھر پاکستانی صارفین اس بات پر مصر نظر آئے کہ جاسوسی اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کے تحت سزائے موت پانے والے کلبھوشن یادیو کو ان کے اہل خانہ سے ملاقات ہی کیوں کرائی گئی۔

ایک بھارتی سوشل میڈیا صارف سونم مہاجان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا، ’’ایک سال تک کی غیر قانونی حراست اور تشدد کے بعد پاکستانی نے بین الاقوامی دباؤ میں آکر کلبھوشن کو ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت تو دی، مگر وہ بھی اس طرح۔  انہیں براہ راست بات چیت کی بھی اجازت نہیں تھی، انہیں گفت گو کے لیے انٹرکام استعمال کرنا پڑا۔‘‘

بھارتی حکومت کی جانب سے بھی اس ملاقات کے حوالے سے ایک مذمتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ کو پاکستان میں ہراساں کیا گیا اور انہیں یادیو سے آزادانہ گفت گو کی اجازت تک نہیں دی گئی۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں  کہا گیا ہے کہ اس موقع پر پاکستانی صحافیوں کو متعدد مواقع پر یادیو کی اہلیہ اور والدہ تک رسائی دی گئی اور اس طرح انہیں کلبھوشن یادیو پر عائد جھوٹے الزامات کے تناظر میں ہراساں کیا جاتا رہا۔‘‘

DW.COM