1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کلبھوشن یادیو کو پھانسی نہ دی جائے، عالمی عدالت انصاف

بین الاقوامی عدالت انصاف نے پاکستان کو بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کی پھانسی روک دینے کا حکم  دیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کا معاملہ اس عدالت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق بین الاقوامی عدالت انصاف نے کہا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے یہ دلائل بھی سنے گی کہ آیا پاکستان نے اس بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے تحت ان غیر ملکیوں کو سفارتی مدد دی جا سکتی ہے جو سنگین جرائم میں ملوث رہے ہوں۔ عدالت نے اپنے عبوری فیصلے میں پاکستان کا یہ موقف مسترد کر دیا کہ اس عدالت کا دائرہ کار محدود ہے اور یہ کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ اس عدالت میں نہیں لایا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی عدالت کلبھوشن کے معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔

اس عدالت کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، ’’بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے تمام اقدامات کرے، جن کی مدد سے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دیے جانے کو اس عدالت کے تفصیلی فیصلے تک روکا جا سکے۔‘‘

یہ فیصلہ سناتے ہوئے جج رونی نے کہا کہ  پاکستان اور بھارت کے درمیان ویانا کنوینشن کے تحت مجرموں تک سفارتی رسائی کے معاملے میں اختلاف پایا جاتا ہے اور اس عدالت کا مکمل فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔

اس فیصلے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ’’ہریش سالوے نے بھارت کا کیس عدالت کے سامنے بہترین انداز میں پیش کیا۔‘‘ انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ بھارت کلبھوشن یادیو کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ 

دوسری جانب پاکستانی اٹارنی جنرل کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کے ردعمل میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ بات واضح طور پر کی ہے کہ عبوری فیصلے کا حتمی فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ فیصلہ آئندہ فیصلے پر اثر انداز ہوگا۔ 

پاکستان کا موقف ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایک ایجنٹ ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم بنانا تھا۔ اسے پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے جاسوسی کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔ دوسری طرف بھارتی موقف یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کو کلبھوشن یادیو تک سفارتی رسائی نہیں دی اور اس کے خلاف سزائے موت کا فوجی عدالت کا فیصلہ فوری طور پر معطل کیا جائے۔

DW.COM