1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کلبھوشن یادیو: ’پاکستانی قانونی ٹیم نے غلطیاں کیں‘

کچھ ماہرینِ قانون کے خیال میں ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے، جب کہ کئی دوسروں کے خیال میں پاکستان کی قانونی ٹیم سے کئی غلطیاں سر زد ہوئیں اور فیصلے سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔

معروف قانون دان اور سابق چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ جسٹس وجیہ الدین نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’دیکھیں یہ ایک عبوری فیصلہ ہے، اس میں کسی کی کوئی ہار جیت کا سوال نہیں ہے لیکن اس میں پاکستان کی قانونی ٹیم سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ مارچ کے مہینے میں ہم نے یہ کہا کہ ہم ویانا کنونشن کا حصہ ہیں جب کہ بھارت نے اس پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اگر ہم شروع میں ہی ویانا کنونشن سے دست بردار ہوجاتے تو عالمی عدالتِ انصاف کے دائرہ سماعت پر سوالیہ نشان لگ جاتا۔ پھر ہمیں ایڈ ہاک جج مقرر کرنا چاہیے تھا۔ اس سے کم از کم یہ ہوتا کہ فیصلہ متفقہ نہیں ہوتا۔ متفقہ فیصلے کا بہرحال لوگوں کے ذہنوں پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ پھر میری یہ سمجھ سے باہر ہے کہ یادیو کو قونصلر رسائی کیوں نہیں دی گئی۔ جس نے بھی یہ کیا، اس نے پاکستان کا نقصان کیا۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’میرٹ کے حوالے سے پاکستان کے نقطہء نظر میں وزن ہے۔ کلبھوشن بھارتی جاسوس ہے اور دستاویزی ثبوت اس بات کے عکاس بھی ہیں کہ وہ واقعی ایک اہم جاسوس ہے۔ دو پاسپورٹوں کی برآمدگی بھی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ وہ جاسوسی مشن پر تھا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس مقدے کے حتمی فیصلے کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا، ’’یہ عالمی عدالت ہے یقیناً اس کے بار ے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اس میں کئی عوامل کار فرما ہیں لیکن اگر پاکستان کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنی ہے تو وہ ویانا کنونشن سے دستبردار ہوجائے اور یادیو کو قونصلر رسائی دے دے۔ اگر فیصلہ پاکستان کے خلاف آجائے تو ہمیں ہر صورت میں فیصلہ ماننا چاہیے۔‘‘
لیکن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد حسن منٹو کے خیال میں ویانا کنونشن سے دستبردار ہونا کوئی اتنی آسان بات نہیں: ’’یرے خیال میں کسی ایک واقعے کی بنیاد پر اس کنونشن سے دستبردار ہونا کوئی دانشمندی نہیں۔ آپ کوبین الاقوامی برادری میں رہنے کے لیے بہت سے معاہدوں اور روایات کی پاسداری کرنا پڑتی ہے اور پھر ویاناکنونشن کا تعلق کسی ایک مخصو ص مقدمے سے تو نہیں ہے اس میں اور بھی کئی چیزیں شامل ہیں۔ اگر ہم اس سے دستبردار ہوتے ہیں تو ہمارے لیے کئی دوسرے مسائل بھی کھڑے ہوسکتے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اس مسئلے کو دونوں ملکو ں میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور یہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی چل رہی ہے ورنہ مجھے بتائیں کہ اس فیصلے میں کونسی ایسی نئی بات ہے جو عدالتوں میں نہیں ہوتی۔ جب آپ کوئی مسئلہ عدالت میں لے کر جاتے ہیں تو عدالتیں یہی کہتی ہیں کہ حتمی فیصلے کے آنے تک چیزیں جوں کی توں رہیں گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ قونصلر رسائی کے حوالے سے ممالک کی اپنی اپنی تشریحات ہیں: ’’اس بات پر بحث ہونی ہے کہ آیا ایک ایسا شخص جس کو پاکستان جاسوس کہتا ہے اور جس پر یہ الزام ہے کہ وہ تخریب کاری کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ تو کیا ایسے شخص تک رسائی دی جا سکتی ہے کہ نہیں۔ میرے خیال میں یہ بات مقدمے میں بحث کے دوران آئے گی۔‘‘

Pakistan Islamabad Pressekonfernez zu angebl. Indischer Spion (Getty Images/AFP/A. Qureshi)

بھارتی مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو کو ایک پاکستانی فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی


آرمی قوانین پر گہری نظر رکھنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اس صورتِ حال کا ذمہ دار پاکستان کی قانونی ٹیم کو قرار دیا۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہماری ٹیم نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ آرمی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کے پانچ مراحل ہوتے ہیں، جس میں کسی بھی واقعہ کا ہونا، جس کا مطلب ہے کلبھوشن کی گرفتاری، اس کے بعد انکوائری کا مرحلہ، پھر ٹرائل اسٹیج اور پھر سزا اور اپیل۔ ہم نے ابتدا ء میں ہی بھارت کو اس کی گرفتاری سے آگاہ کیا اور پھر انکوائری اسٹیج پر خط لکھ کر ان سے کلبھوشن کے دو پاسپورٹوں کی تفصیلات طلب کی، جس پر بھارت نے خاموشی اختیار کی۔ اگر وہ تفصیلات لے کر آجاتے تو ان کو خود بخود قونصلر رسائی مل جاتی۔ ہماری قانونی ٹیم کو یہ نکات اٹھانا چاہیے تھے۔ بھارت نے قونصلر رسائی کا دعویٰ بہت بعد میں کیا اور پاسپورٹ والے مسئلے پر خاموشی اختیار کی کیونکہ اگر وہ یہ مان لیتے کہ پاسپورٹ انہوں نے ہی جاری کیے ہیں تو پھر ان کے لیے مقدمے میں مشکلات پیدا ہوجاتیں لیکن افسوس ان تمام نکات کو ہماری ٹیم نے نہیں اٹھایا۔ ڈیڑھ گھنٹے کے بجائے چالیس منٹوں میں اپنے دلائل پورے کر لیے، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری ٹیم کتنی تیاری کر کے گئی تھی۔‘‘

ملتے جلتے مندرجات