1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کلبھوشن کی پھانسی کے سنگین نتائج ہوں گے، بھارتی دھمکی

بھارت نے پاکستان کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگراس کے شہری کلبھوشن یادو کی پھانسی کی سزا پر عمل کیا گیا تو یہ منصوبہ بندی کے تحت قتل ہوگا اور پڑوسی ملک کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

Indien Sushma Swaraj (picture alliance/AP Photo/G. Amarasinghe)

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج

بھارتی بحریہ کے سابق افسرکلبھوشن یادیو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کی بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے آج سخت مذمت کی اور کہا کہ انصاف کے فطری عمل اور اقدار کی مکمل طور پر خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک معصوم شخص کو سزا سنائی گئی ہے۔ اراکین پارلیمان نے یادیو کو بچانے اور پڑوسی ملک کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔
اراکین پارلیمان کی تشویش پر وزیر خارجہ سشما سوراج نے انہیں یقین دلایا کہ پورا ملک یادیو کے تعلق سے فکر مند ہے اور ان کو بچانے کے لیے حکومت ہر قدم اٹھائے گی اور انہیں بچانے کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑے گا، کیا جائے گا کیونکہ وہ نہ صرف اپنے والدین بلکہ دیش کا بھی بیٹا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اگر مسٹر یادیو کو پھانسی ہوتی ہے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑے گا۔ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ، ’’دہشت گردی کے سبب الگ تھلگ پڑا پاکستان بین الاقوامی برادری کی توجہ بٹانے کے لیے بھارت کو بدنام کرنے کی کوشش کے تحت اس طرح کے کام کر رہا ہے۔حالانکہ پاکستانی وزیر اعظم کے خارجہ مشیر سرتاج عزیز نے پاکستانی سینٹ کو بتایا تھا کہ یادیو کے خلاف ڈوزیئر صرف بیانات پر مشتمل ہے اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔‘‘


وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی پار لیمان کو یقین دلایا کہ یادیو کو بچانے کے لیے جو بھی ضروری ہو گا،کیا جائے گا اور حکومت یقینی بنائے گی کہ مسٹر یادیو کے ساتھ انصا ف ہو۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان کی یہ کارروائی انتہائی قابل مذمت ہے اور اس سے اس کا اصلی چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر یادیو بے قصور ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق، ’’ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یادیو کے پاس بھارتی پاسپورٹ ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہے تو وہ جاسوس کیسے ہوگئے۔ مسٹر یادیو کے ایران میں ایک شخص سے کاروباری تعلقات تھے اور جب وہ گذشتہ سال مارچ میں تجارت کے سلسلے میں ایران گئے تو ان کو اغوا کرلیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان میں واقع اپنے ہائی کمیشن کے ذریعے ان کو وکیل فراہم کرنے کی تیرہ بار کوشش کی لیکن پاکستان نے اس کی اجازت نہیں دی۔
بھارتی تجزیہ کاروں نے یادیو کو پھانسی دینے کے فیصلے کو پاکستانی آرمی کی سراسیمگی اور مایوسی کا مظہر قرار دیا ہے۔ پاکستان میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر سی اے راگھون کا کہنا تھا، ’’پاکستانی فوج نے سراسیمگی میں یہ کارروائی کی ہے۔ چونکہ پاکستان میں پچھلے دنوں دہشت گردی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں اور پاکستانی آرمی ان پر قابو پانے میں ناکا م رہی ہے لہٰذا اس نے اپنی ناکامی سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے یادیو کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا۔‘‘
بھارت کے سابق خارجہ سیکرٹری للت مان سنگھ کاکہنا تھا، ’’دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے معاملے پر پاکستان دنیا بھر میں الگ تھلگ پڑتا جارہا ہے۔ وہ کلبھوشن کو پھانسی کی سز ا سنا کر دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ بھارت کی دہشت گردی کا شکار ہے لیکن پاکستان کو اس میں کامیابی نہیں مل سکے گی کیوں کہ جس انداز سے عدالتی کارروائی کی گئی ا س نے پاکستان کے اعتبارکو مزید مجروح کردیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر مان سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے پاس یادیو کے خلاف واضح ثبوت ہوتے تو وہ بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے دیگر طریقے اپنا سکتا تھا لیکن چونکہ اس کے پاس خاطر خواہ ثبوت نہیں ہیں اس لیے ملٹری ٹریبونل کا راستہ اپنایا۔

Indien - Parlament in Neu Dehli (picture-alliance/dpa)

کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کی بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے آج سخت مذمت کی


بھارتی سپریم کورٹ کے معروف وکیل اور سابق وزیر قانون رام جیٹھ ملانی نے حکومت کو اس معاملے میں بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
دریں اثنا پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے، جو پاکستان بھارت تعلقات پر ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت آئے ہیں، اس معاملے پر کوئی رائے زنی کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ وہ کسی دوسرے مقصد سے یہاں آئے ہیں اور اس معاملے پر کچھ نہیں کہیں گے۔
اس دوران کل بھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ مظاہرین نے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور کئی مقامات پر پاکستان کے قومی پرچم کو نذر آتش کیا۔