1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کلاؤڈی بم دھماکے‘، نئے انکشافات

ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شمالی آئرلینڈ میں حکومتی اداروں اور کیتھولک چرچ نے اُس سابقہ بشپ کو تحفظ فراہم کیا،جس نے مبینہ طور پرسن 1972ء میں ’کلاؤڈی بم دھماکوں‘ کی منصوبہ بندی میں ماسٹرمائنڈ کا کردار ادا کیا تھا۔

default

منگل کو جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز فادر James Chesney کو ممکنہ فرقہ ورانہ فسادات کے پیش نظر بغیر کسی عدالتی کارروائی کے سن1973ء کے اواخر میں ہمسایہ ملک جمہوریہ آئر لینڈ منتقل کر دیا گیا تھا۔ فادرجیمز سن 1980ء میں انتقال کر گئے تھے ، ان کی عمر چھیالیس برس تھی۔

شمالی آئر لینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کلاؤڈی میں سن 1972ء میں تین سلسلہ وار کار بم دھماکوں کے نتیجے میں نو افراد ہلاک جبکہ دیگر تیس زخمی ہوئے تھے۔ شمالی آئر لینڈ کے تیس سالہ پُر تشدد دور کے دوران یہ سب سے زیادہ ہلاکت انگیز واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔

اگرچہ اس حملے میں ملوث ہونے کی بنیاد پر کسی کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا تھا تاہم ایک طویل عرصے تک فادر جیمز کو اس حملے کا ذمہ دار سمجھا جاتا رہا۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ فادر جیمز کا تعلق آئرش ریپبلک آرمی IRA سے تھا تاہم IRA ان الزامات کو ہمیشہ سے ہی مسترد کرتی رہی ہے۔

Anschlag in Nordirland März 09

کلاؤڈی بم دھماکوں کے متاثرین پولیس سے نالاں ہیں اور انصاف کے منتظر ہیں

اس واقعہ کے اڑتیس سال بعد شمالی آئر لینڈ کی پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد کہا ہے کہ اُس وقت کی حکومت، پولیس اور کیتھولک چرچ نے اپنے اثرورسوخ سے ان حملوں کے مشتبہ ملزم فادر جیمز کو عدالتی کارروائی سے بچا لیا تھا۔

اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد Derry کے سابقہ بشپ ایڈورڈ ڈیلے نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر شک ہے کہ فادر جیمز علیٰحدگی پسند IRA کے رکن تھے۔ دوسری طرف آئر لینڈ میں کیتھولک چرچ کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات فادر جیمز کی زندگی کے دوران ہی ہو جانی چاہئے تھیں تاہم اس بیان میں کسی بھی سازش کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیتھولک چرچ اس معاملے کو دبانے میں ملوث نہیں تھا۔

’کلاؤی بم دھماکوں‘ کے متاثرین نے کہا ہے کہ ان نئی تحقیقات نے مزید سوالات اٹھا دئے ہیں اور اب برطانوی حکومت کو اس حادثے کی کڑی تحقیقات نئے سرے سے شروع کرنی چاہئیں۔

رپورٹ:عاطف بلوچ

ادارت: کشور مصفطیٰ

DW.COM