1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کفار کے دیس جانا گناہ کبیرہ‘، داعش کا مہاجرین کے لیے پیغام

دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش نے کہا ہے کہ لیبیا اور شام سے یورپ فرار ہونے والے مسلمان ’گناہ کے مرتکب‘ ہو رہے ہیں۔ اس گروہ نے شدت پسندی سے فرار حاصل کرنے والے ان بےگھر مہاجرین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ شام اور عراق میں سرگرم انتہا پسند گروہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے دابق نامی اپنے میگزین میں لکھا ہے کہ یورپ جانے والے یہ افراد اپنے بچوں کو لادینیت، منشیات، الکوحل اور ’جنسی طور پر بے راہرو معاشرے‘ میں لے جا رہے ہیں۔ داعش کے مطابق یوں یہ لوگ ’گناہ کے مرتکب‘ ہو رہے ہیں۔ داعش نے اپنے اس تازہ میگزین میں مزید لکھا ہے کہ ان افراد کو یورپ کا رخ نہیں کرنا چاہیے۔

DW.COM

یہ امر اہم ہے کہ اسی شدت پسند گروہ کی طرف سے کی جانے والی خونریز کارروائیوں کے نتیجے میں بالخصوص شام کی بہت بڑی آبادی مہاجرت پر مجبور ہوئی ہے۔ بے گھر افراد محفوظ مقامات کا رخ کر رہے ہیں جبکہ لاکھوں شہری اس کوشش میں ہیں کہ وہ پرامن یورپی ممالک پہنچ جائیں تاکہ ان کی زندگیوں میں بہتری آ سکے۔ شام سمیت مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں جنگی حالات نے مجموعی طور پر کئی ملین انسانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

داعش کے جنگجو شام اور عراق کے علاوہ لیبیا میں بھی فعال ہو چکے ہیں۔ یہ شدت پسند سینکڑوں افراد کو ہلاک بھی کر چکے ہیں۔ اس صورتحال میں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد یورپ پہنچ رہی ہے، جس کی وجہ سے دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔

تاہم یورپی ممالک میں ان مہاجرین کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود یُنکر نے البتہ مہاجرین کے مسئلے کو ’مذہب اور عقائد سے بالاتر‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مہاجرین کی یورپ میں بہبود کے لیے ایک طویل المدتی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

داعش کے دابق نامی جریدے میں لکھا گیا ہے، ’’افسوس ہے، لیبیا اور شام کے کچھ باشندے اپنے بچوں کی زندگیوں اور مستقبل کو خطرات میں ڈالنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔‘‘ اس میگزین میں مزید کہا گیا ہے کہ ’لادینیت اور بے حیائی کے اصولوں پر چلنے والے یورپی ممالک نے مسلمانوں پر صلیبی جنگیں مسلط کی تھیں۔ وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں‘۔

Deutschland Flüchtlinge in München

دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے

داعش نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یورپ فرار ہونے والے شامی افراد کا تعلق صدر بشار الاسد یا کردوں کے زیر انتظام علاقوں سے ہے۔ داعش نے اس مہاجرت کو ایک بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے، ’’یہ بات سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ دولت اسلامیہ کو دانستہ طور پر چھوڑ کر کافروں کے ممالک کی طرف جانا گناہ کبیرہ ہے۔‘‘

داعش نے مبینہ طور پر تین سالہ کرد بچے ایلان کردی کی تصاویر کو دوبارہ شائع کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یورپی ممالک میں ’مسلمانوں کا یہ حال‘ کیا جا رہا ہے۔ حقیقت میں اس بچے کی لاش ترکی کے ایک ساحل سے ملی تھی، جس کے بعد یورپ بھر میں مہاجرین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار اور بھی زیادہ ہو گیا تھا۔