1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر کے مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے، بھارتی ’را‘ کے سابق سربراہ کا انٹرویو

ڈی ڈبلیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دولت کا کہنا ہے کہ بھارت کے ناکافی اقدامات کشمیر میں شورش کا سبب بن رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو فریقین سے بات کرنا چاہیے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھ جولائی کو علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی سکیورٹی کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے وادی کے بعض حصوں میں کشیدگی جاری ہے۔ اب تک ساٹھ سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

اس موضوع پر ڈی ڈبلیو نے بات کی اے ایس دولت سے جو بھارتی انٹیلیجنس ادارے را کے سربراہ رہ چکے ہیں اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں ان کو جموں اور کشمیر پر مشاورت بھی دیا کرتے تھے۔

A S Dulat

اے ایس دولت

ڈی ڈبلیو: کشمیر میں دو ماہ سے تشدد کی لہر جاری ہے۔ اس کو ختم کرنے کے لیے کیا کیا جانا چاہیے؟

اے ایس دولت: نئی دہلی میں حکومت نے کشمیر کی صورت حال کو بہت بری طرح برتا ہے۔ وہاں بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ہمیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ صورت حال سن دو ہزار آٹھ اور سن دو ہزار دس میں اٹھنے والی شورش سے بدتر ہے۔ کشمیریوں کے اندر غصہ بھڑک رہا تھا، برہان وانی کی ہلاکت نے اس کو باہر نکال دیا۔

کیا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بھارتیا جنتا پارٹی کا کشمیر میں اتحاد غم و غصے کی وجہ بنا ہے، یا پھر اس کی کوئی اور وجہ ہے؟

کشمیری گزشتہ برس مارچ میں مفتی محمد سعید کے وزیر اعلیٰ بننے پر خاصے برہم تھے۔ نئی دہلی میں حکام کو چاہیے تھا کہ وہ جموں اور سری نگر کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتے۔ اس کے برخلاف حکومت نے سری نگر میں مداخلت کی کوشش کی جس سے کشمیریوں میں اور غصہ بھڑکا۔ زیادہ تر مسئلہ پی ڈی پی کے حلقوں میں ہے۔ صورت حال بگڑتی جا رہی ہے اور محبوبہ مفتی کو اندازہ ہی نہیں کہ کیا کرنا چاہیے۔

کیا ہم ایک نئی طرح کی نوجوان کشمیری نسل کو دیکھ رہے ہیں جو کہ لڑنے مرنے پر تیار ہے؟ کیا آپ کو اس سے خوف آتا ہے؟

جی ہاں، یہ ایک خوف ناک صورت حال ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو انیس سو نوے کی دہائی میں ہونے والی شورش کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ نوجوانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

کیا آپ موجودہ تشدد کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ دیکھتے ہیں؟

ابتداء میں کشمیری رد عمل بے ساختہ تھا۔ تاہم جب صورت حال خراب رہی تو پاکستان نے بھی سرحد کے پار سے مداخلت شروع کی۔ سرکاری سطح پر ایک دوسرے مؤقف کا اظہار کرنے کے باوجود پاکستان کشمیر کا بھلانا نہیں چاہتا۔ تاہم اس وقت جو صورت حال ہے وہ اسلام آباد کو فائدہ ہی پہنچا رہی ہے۔

ہمیں پاکستان سے بھی بات چیت کرنا ہوگی۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ لیکن ہمیں پاکستان سے مذاکرات کے موقع پر کشمیریوں کے مسئلے کو نہیں بھولنا چاہیے۔واجپائی جی کے دور میں انہوں نے نواز شریف کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا تھا۔

گزشتہ ہفتے آل انڈیا ریڈیو نے بلوچی زبان میں ایک سروس شروع کی۔ کیا یہ کشمیر کے مسئلے کا رد عمل ہے؟

بھارتی حکومت بلوچستان کے مسئلے کے حوالے سے جو چاہے کر سکتی ہے، لیکن اس سے کشمیر کا بحران حل نہیں ہوگا۔ البتہ اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ پاکستانی حکومت بلوچستان کے عوام پر مزید سختی کرے گی۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جب پاکستان کشمیر میں مداخلت کرتا ہے تو کشمیریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسا کرنا سود مند کبھی نہیں ہوتا۔ یہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے طریقے ہیں۔

یہ انٹرویو ڈی ڈبلیو کے بھارت میں نمائندے مرلی کرشنن نے کیا تھا۔