1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر کی کشیدہ صورتِ حال، پاکستان کا یوم سیاہ منانے کا فیصلہ

پاکستان نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور وہاں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے خلاف انیس جولائی کو یوم سیاہ بھی منائے گا۔

یوم سیاہ منانے کا یہ فیصلہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا، جو آج لاہور میں منعقد ہوا۔ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال اس اجلاس کے ایجنڈے میں سر فہرست تھی۔ اجلاس کے بعد جاری کئے گئے ایک اعلامیے میں کہا گیا، ’’کشمیریوں کی اخلاقی و سیاسی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ بھارتی فورسز کی کارروائیوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بھارتی حکومت نے عالمی برادری کی رائے اور کشمیریوں کے جذبات کو نظر انداز کیا ہے اور اقوامِ متحدہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو یقینی بنائے۔‘‘

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کشمیر کی صورتِ حال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اگلے ہفتے بلایا جائے گا۔
پاکستان نے اس مسئلے کو پہلے ہی اقوام متحدہ میں اٹھا دیا ہے۔ اس عالمی ادارے میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کو کشمیری عوام سے کیے گئے وعدے یاد دلائے اور کشمیر سے متعلق سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کا تذکرہ بھی کیا۔ ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی پر یہ بھی زور دیا کہ وہ کشمیر پر سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں پر عمل درآمد کرائے۔

پاکستان کے زیر کنٹرول جموں و کشمیر میں بھی بھارتی فوج کی کارروائیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ وہاں آج سیاسی جماعتوں نے بھارت کے زیرِ اتنظام کشمیر میں ہلاکتوں کے خلاف یوم مذمت منایا۔ اس خطے کی تمام سیاسی و سماجی تنظیموں نے اس موقع پر ریلیاں نکالیں، جس میں مقررین نے بھارتی فوج کی کارروائیوں کی بھر پور مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا وہ کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

پاکستان میں بھی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ریلیاں نکالیں اور جلسے منعقد کئے، جس میں مقررین نے حکومت سے اس مسئلے کو تمام بین الاقوامی فورمز پراٹھانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم ان احتجاجی مظاہروں میں کچھ مذہبی تنظیموں نے کشمیر کو بزور طاقت آزاد کرانے کے لئے بھی نعرے لگائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں فوج کی کارروائیوں نے پاکستان میں جہادی تنظیموں کوایک مرتبہ پھر یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ کھلے عام احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کر سکیں۔ اسلام آباد سمیت پاکستان کے کئی بڑے شہروں میں آج جہادی تنظیموں نے بھی کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیوں کے خلاف ریلیاں نکالیں اور نئی دہلی کے خلاف جہاد کے نعرے لگائے۔

یوم مذمت منانے کے مقاصد بتاتے ہوئے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر ڈاکڑ توقیر گیلانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’آج پورے اے جے کے میں بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف یوم مذمت منایا جارہا ہے۔ تمام کشمیری تنظیمیں بھارتی بربریت کے خلاف متحد ہیں۔ ان مظاہروں کا مقاصد عالمی ضمیر کو جگانا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یہ بتانا ہے کہ وہ اس جدوجہد میں تنہا نہیں بلکہ ان کے بھائی بھی ان کے ساتھ ہیں۔ میں اس موقع پر پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے رویے کی مذمت کرتا ہوں، جو اس جدوجہد میں پاکستان کے جھنڈے دکھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ تحریک الحاق پسندوں کی ہے۔ کشمیر پر حق صرف کشمیریوں کا ہے۔ وہ نہ بھارت کا تسلط چاہتے ہیں اور نہ پاکستان کا غلبہ۔ اس طرح کی کوریج کا بھارت فائدہ اٹھا رہا ہے اور وہ دنیا کو بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ تو پاکستان کی طرف سے دخل اندازی ہورہی ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’یہ بات بہت افسوس ناک ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہمارے لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے اور یہاں پی پی پی اور نون لیگ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اس موقع پر لڑ کر وہ دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ ہماری دونوں پارٹیوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر کشمیریوں سے اظہارِیکجہتی کریں۔‘‘