1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر کی کشیدہ صورتِ حال: پاکستان میں غم و غصے کی لہر برقرار

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر پاکستان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ پاکستانی عوام، تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور فوج نے بھی کشمیری عوام کی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کو فون کیا اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔ بلاول نے کشمیر میں ہلاکتوں پر میر واعظ سے تعزیت بھی کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کی پارٹی کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گی۔
پیپلز پارٹی کشمیر کی صورتِ حال کے خلاف کل بروز جمعہ پورے ملک میں یوم احتجاج منا رہی ہے۔ اس سے پہلے آرمی چیف نے بھی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا اورکور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے کو کشمیری عوام کئی خواہشات کے مطابق حل کرنے پر زور دیا تھا۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھی جمعہ کو کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر غور کرنے کے لئے بلایا ہے جبکہ تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے اس مسئلے پر قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کی خاموشی کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو یہ شکوہ ہے کہ حکومت اس مسئلے کو موثر طور پر بین الاقوامی فورم پر نہیں اٹھا رہی۔ پاکستان نے اس مسئلے کو پہلے ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھا دیا ہے لیکن حزبِ اختلاف کے علاوہ ملک کی بڑی مذہبی جماعتیں بھی حکومت سے اس بات پر خفا ہیں کہ وہ اس مسئلے کو موثر طور پر نہیں اٹھا رہی۔
کشمیر کی موجودہ صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’وہاں بھارت کشمیری عوام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور یہاں حکومت صرف خانہ پوری کر رہی ہے۔ کوئی پارلیمنٹ کا اجلاس اس مسئلے پر بحث کرنے کے لئے نہیں بلایا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک میں نہ کوئی دفترِ خارجہ ہے اور نہ کوئی خارجہ پالیسی۔ کیا عجیب بات ہے کہ ملک میں کوئی مستقل وزیرِ خارجہ بھی نہیں ہے۔ کشمیر کمیٹی بھی اس مسئلے پر خاموش ہے۔‘‘

اسی مسئلے پر جموں و کشمیر نیشنل عوامی پارٹی کے صدر پروفیسر خلیق احمد نے کہا، ’’مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف بہت غصہ ہے اور خصوصاﹰ کشمیری نوجوان بہت مشتعل ہیں۔ اسی لئے وادی میں بھارتی ظلم وستم کے خلاف بھر پور احتجاج ہو رہا ہے لیکن اِس احتجاج کو مذہبی رنگ دینے سے کشمیریوں کی آزادی کے لئے جدوجہد کو نقصان پہنچے گا۔ اگر اس کو مذہبی رنگ دیا جائے گا تو جہادی تنظیموں کے لئے جگہ بنے گی۔ داعش اور القاعدہ کے لوگوں کو موقع مل جائے گا کہ وہ اِس تحریک کو ہائی جیک کر لیں اور اِس صورتِ حال میں بین الاقوامی برادری بھی کشمیریوں کا ساتھ نہیں دے گی، جب کہ بھارت کو ہماری آزادی کی تحریک کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔ لہذا پاکستان میں جس طرح اس تحریک کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ کشمیر کی آزادی کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ٹی وی پر یہ دکھایا جارہا ہے کہ کشمیری پاکستان کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔ لیکن میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیری پاکستان سے بھی آزادی چاہتے ہیں اور بھارت کے غلبے سے بھی نجات کے خواہش مند ہے۔ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اس پر نہ پاکستان کا حق ہے اور نہ ہی بھارت۔ اس کی تقدیر کا فیصلہ صرف کشمیری خود کریں گے۔‘‘