1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کشمیر کا نیا سیاسی بحران: ذمہ دار کون؟

شری امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین منتقل کرنے کے تنازعے کے باعث بھارت کے زیر انتظام ریاست جموّں وکشمیر میں کانگریس کی سربراہی والی مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

default

وادی کشمیر میں مسلسل دس روز تک شری امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین منتقل کئے جانے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مُظاہرے ہوئے

بھارت کے زیر انتظام مسلم اکثریتی ریاست جموّں و کشمیر میں ہندوٴوں کی ایک مقدس غار واقع ہے جسے امرناتھ گُپھا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہر سال بھارت کی مختلف ریاستوں سے لاکھوں ہندو عقیدت مند امرناتھ غار کی زیارت کے لئے وادی کشمیر کا رُخ کرتے ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے دور اقتدار میں اس یاترا کے انتظامات کے لئے شری امرناتھ شرائن بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ اور ابھی حال ہی میں عقیدت مندوں یا یاتریوں کو سہولیات فراہم کرنےکے لئے ریاست میں پی ڈی پی اور کانگریس کی مخلوط حکومت کی کابینہ نے شرائن بورڈ کو آٹھ سو کنال زمین منتقل کرنے کا فیصلہ کیا‘ جو بعد میں واپس لیا گیا۔ لیکن یہی تنازعہ کشمیر کے موجودہ بحران کی وجہ بنا۔

سات جولائی کو بھارت کے زیر انتظام ریاست جموّں و کشمیر میں مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ غلام نبی آزاد کے استعفے کے بعد اب کشمیر کو ایک سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ ریاست جموّں و کشمیر سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامے‘ 'کشمیر امیجز' کے ایڈیٹر اور معروف تجزیہ نگار بشیر منظر موجودہ بحران کے حوالے سے کہتے ہیں کہ رواں سال کے اواخر میں ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ فائدہ مقامی سیاسی جماعت‘ نیشنل کانفرنس کو ہوسکتا ہے۔

Kaschmir: Hardliner Geelani kritisiert Musharrafs Kompromissbereitschaft

حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے زمین منتقلی کے فیصلے کے خلاف زبردست احتجاج کیا

سیاسی بحران کی شکار ریاست میں سرگرم علیحدگی پسند رہنماٴوں نے زمین منتقلی کے فیصلے کو ایک مذموم سازش سے تعبیر کیا۔ معروف علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کے چیئرمین‘ سید علی شاہ گیلانی نے سرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ زمین منتقلی کے حکومتی فیصلے نے کشمیری عوام میں یہ احساس پیدا کردیا ہے کہ 'بھارت کے فوجی قبضے میں کشمیر کی ثقافت‘ زمین‘ عزت اور وقار محفوظ نہیں ہے'۔

شدید عوامی رد ّعمل کو مدنظر رکھتے ہوے مخلوط حکومت میں شامل اہم جماعت‘ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے بھارتی پارلیمان کی رکن اور پی ڈی پی کی صدر‘ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی جماعت لوگوں کے جزبات اور احساسات کو ہرگز نظر انداز نہیں کرسکتی ہے۔

2-Mufti-sgr.jpg

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پیٹرن مفتی محمد سعید پارٹی کی صدر اور اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کے ہمراہ سرینگر کے علاقے گاندربل میں ایک عوامی ریلی کے دوران گفتگو کرتے ہوے

پی ڈی پی کی طرف سے حمایت واپس لینے کے فیصلے کے نتیجے میں کانگریس کی سربراہی والی مخلوط حکومت کو شدید دھچکہ پہنچا اور اس طرح ریاست کو ایک نئے بحران کا سامنا ہوا۔ شدید دباٴو کے پیش نظر ریاستی حکومت نے شرائن بورڈ کو زمین منتقل کئے جانے کا فیصلہ واپس لیا۔ لیکن اس فیصلے کے خلاف سیاسی بے چینی کی شکار ریاست کے جموّں صوبے میں ہندوٴوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے سامنے آئے۔ ہر گُزرتے دن کے ساتھ ریاستی وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد پر سیاسی دباٴو بڑھتا ہی چلا گیا اور بالآخر سات جولائی کو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

ریاستی گورنر نے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے سات جولائی تک کی مہلت دی تھی۔ لیکن وزیر اعلیٰ نے ریاستی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے تحریک جاری کرنے کے بجائے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

کشمیر کی ریاستی اسمبلی کل ستاسی ارکان پر مشتمل ہے۔ سن دو ہزار دو میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ نومبر‘ دو ہزار دو میں پی ڈی پی اور کانگریس نے دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی۔ کشمیر میں اگلے ریاستی انتخابات رواں سال کے اواخر میں ہونے والے ہیں۔

Audios and videos on the topic