1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کشمیر کا بدلتا ہوا چہرہ

ایک بڑے ہال میں آوازوں کی بھنبھناہٹ کے درمیان قطار در قطار بیٹھے نوجوان لڑکے لڑکیاں رواں ہندی زبان میں بھارت کے مشرقی علاقوں سے جھنجلاہٹ کے شکار موبائل فون صارفین کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

default

بادی النظر میں یہ بنگلور یا حیدر آباد کا کوئی آؤٹ سورسنگ سینٹر محسوس ہوتا ہے مگر یہ تو شورش کا شکار کشمیر ہے، جہاں بھارت کے ساتھ تعلق کو ہمیشہ شک و شبے کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔

کشمیر کے موسم گرما کے دارالحکومت سری نگر کے ایک خستہ حال صنعتی علاقے میں واقع دفتر، جہاں 230 افراد کے کام کرنے کی گنجائش ہے، بھارت کے بڑے شہروں کے اُن دفاتر کے مقابلے میں کافی چھوٹا ہے، جہاں ایک ہی وقت میں ہزاروں افراد کام کر رہے ہوتے ہیں۔

ایسارگروپ کی کاروباری شاخ AEGIS کے زیر انتظام یہ دفتر خطے میں اپنی نوعیت کا واحد دفتر ہے۔ بھارت کی بڑی معیشت کی تیز نمو کے ثمرات کشمیر کی پرآشوب وادی تک بھی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

Menschen kaufen wieder frisches Gemüse

کشمیر کے بازاروں میں چہل پہل ہے اور سڑکوں پر ٹریفک کا رش

آئندہ چند ماہ کے دوران یہ ادارہ مزید 270 نشستوں کا اضافہ کرتے ہوئے ایک ہزار کے قریب کارکنوں کو ملازمت دے گا، جو مختلف اوقات میں کام کریں گے۔

اس کے انتظامی افسران، جن میں سے بیشتر بھارتی شہروں میں یا پھر بیرون ملک کام کرنے والے کشمیری ہیں، کا کہنا ہے کہ ابھی یہ آغاز ہے اور مستقبل میں اس طرح کے مواقع بڑھیں گے۔

سیاحت کی واپسی

کشمیر میں سیاحت کی رونقیں لوٹ رہی ہیں اور رواں موسم گرما میں سیاحوں کی بڑی تعداد نے اس پُر فضا وادی کا رخ کیا ہے۔ 1989ء میں شورش کے آغاز کے بعد سے یہ سیاحوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ آئینے کی طرح صاف شفاف پانی والی ڈل جھیل پر واقع ہوٹل اور مشہور کشتی گھرکئی ہفتے پہلے ہی بک ہو چکے تھے جبکہ پرتعیش تاج ہوٹل نے بھی ویوانتا کے نام سے نیا ہوٹل کھولا ہے۔

سڑکوں پر ٹریفک کا رش ہے اور بازاروں میں لوگوں کی چہل پہل ہے، جو قالین سے لے کر اخروٹ تک ہر چیز کا مول تول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بنگالی سے لے کر گجراتی تک بھانت بھانت کی بولیاں سن کر اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آپ بھارت کے کسی شہر میں گھوم رہے ہیں یا پھر ایسے متنازعہ علاقے میں، جو 60 سال سے بھارت اور پاکستان کے درمیان مستقل نزاع کا باعث بنا رہا ہے۔

یوں لگتا ہے کہ بھارت سے انتہائی اجنبی تصور ہونے والا خطہ کشمیر بھارت کی 16 کھرب ڈالر کی معیشت کی جانب کھنچ رہا ہے، جس کی شرح نمو 8 فی صد ہے۔

سری نگر کے کال سینٹر میں روز مرہ امور کے ذمہ دار عمر وانی نے کہا:’’ہم کوئی اشتہار نہیں دیتے اور نہ ہی روزگار دفاتر کی مدد لیتے ہیں۔ یہ زبانی کلامی چلتا ہے۔ میرے پاس روزانہ بہت سے لوگ انٹرویو دینے آتے ہیں اور ان میں سے بیشتر گریجویٹ ہوتے ہیں۔‘‘

Indien als Wirtschaftsmacht

کشمیر میں کاروباری مواقع بڑھ رہے ہیں

ملازمت پر رکھنے کے بعد نئے افراد کو مشرقی بھارت میں مستعمل ہندی لہجے سمیت تھوڑی سی تربیت دی جاتی ہے اور ان کی ماہانہ تنخواہ سات ہزار روپے ہوتی ہے۔

کاروباری مواقع

گزشتہ ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں بین الاقوامی تنظیم مرسی کور نے ان نوجوان کشمیری مرد و خواتین کا ذکر کیا، جنہوں نے گزشتہ چند سالوں کے دوران مختلف کاروبار شروع کیے ہیں۔

ان میں سے ایک 28 سالہ عرفان وانی ہیں، جنہوں نے 2005 میں کشمیر واپس لوٹنے کے بعد مختلف پھولوں کو دہلی برآمد کرنے کا کاروبار شروع کیا۔ بعد میں انہوں نے کاروبار کو وسعت دیتے ہوئے اس میں اسٹرابری، شملہ مرچ اور چیری ٹماٹر بھی شامل کر لیے۔ آئندہ تین سالوں کے دوران ان کی کمپنی کی سالانہ بکری 1 کروڑ 90 لاکھ روپے ہونے کی توقع ہے۔

خرم میر نامی ایک کشمیری نوجوان نے پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کے لیے جنوبی کشمیر کے علاقے پلوامہ میں 5 سو ٹن وزنی کولڈ اسٹوریج پلانٹ لگایا ہے۔

بھارت کے خلاف تین سال تک ہونے والے مظاہروں کے بعد یہ پہلا موسم گرما ہے، جو امن سے گزرا ہے۔ گزشتہ سال ایک سترہ سالہ نوجوان کی ہلاکت پر مشتعل ہزاروں نوجوانوں نے ہنگامے اور پولیس پر پتھراؤ کیا تھا۔

تاہم امن کا یہ دورانیہ کمزور ہے اور کسی بھی اشتعال انگیز واقعے سے یہ تہہ و بالا ہو سکتا ہے۔ کشمیر کا بڑا مسئلہ نوجوانوں کی بیروزگاری ہے۔ لندن کے تحقیقی ادارے چیٹہم ہاؤس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، وادی کشمیر کے 96 فی صد نوجوانوں نے تنازعے اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امجد علی

DW.COM