1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر: پیلٹ گنوں کی بجائے مرچوں والے شیل استعمال کریں گے، بھارت

بھارتی سکیورٹی فورسز مستقبل میں کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پیلٹ گنوں کی بجائے مرچوں سے بھرے شیل یا گولے استعمال کریں گی۔ پیلٹ گنوں کی وجہ سے ایک سو سے زائد کشمیری مکمل یا جزوی طور پر اندھے ہو چکے ہیں۔

بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے مہلک پیلٹ گنوں کا استعمال کر رہا ہے۔ ان بندوقوں سے نکلنے والے چھروں کی وجہ سے اب تک تین ہزار آٹھ سو سے زائد افراد زخمی جبکہ ایک سو سے زائد مکمل یا پھر جزوی طور پر اپنی بینائی سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو چکے ہیں۔

ڈاکڑوں کے مطابق پیلٹ گنوں سے زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے کیوں کہ بہت سے ایسے بہت سے کیس رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ پیلٹ گنوں کا استعمال انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے اور حکومت کو ان کے استعمال پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔

آج بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا سری نگر میں آل پارٹیز وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’کمیٹی نے اپنی تجاویز پیش کی ہیں اور پیلٹ گنوں کے متبادل کے طور پر غیر مہلک ہتھیار ’’پاوا شیلز‘‘ کا استعمال کیا جائے گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ پیلٹ گنوں کی نسبت مرچوں سے بھرے شیل شدید جلن کا سبب بنتے ہیں اور ہدف عارضی طور پر حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا، ’’میرے خیال سے اس طرح ہلاکتیں نہیں ہوں گی۔ گزشتہ روز سے ایک ہزار ایسے شیل یہاں پہنچائے جا چکے ہیں۔‘‘

سن دو ہزار دس کے بعد سے بھارت کو مسلم اکثریت والے علاقے کشمیر میں شدید ترین احتجاجی مظاہروں کا سامنا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک تہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے اکہتر عام شہری تھے۔ اتوار کے روز علیحدگی پسندوں کے لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے ایک مذاکراتی وفد کو اپنے گھر کے دروازے سے واپس بھیج دیا تھا۔ سید علی شاہ گیلانی گزشتہ کئی دنوں سے اپنے گھر پر نظر بند ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ انہیں کشمیر میں بد امنی کا ’دکھ‘ ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے مذاکراتی وفد واپس بھیجنے پر گیلانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے متعدد حصوں میں روزانہ ہزاروں افراد احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیتے ہیں اور ان میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ احتجاجی مظاہرے بغیر کسی معروف رہنما یا لیڈر کے منعقد ہو رہے ہیں۔