1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر میں یوم سیاہ

آج پیر کے روز ریاستی دارالحکومت سری نگر اور وادی بھر میں کاروبار زندگی تقریبا معطل رہا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے سری نگر کے لال چوک میں صدر کورٹ کمپیلکس سے ہائی کورٹ تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنانے کا اعلان کررکھا ہے۔

default

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتیںستائیس اکتوبر کو جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کی علامت بتا کر گذشتہ بیس برسوں سے احتجاج کرتی آ رہی ہیں۔

ریاستی پولیس نے لیحدگی پسند جماعت حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے چئیرمین اور بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں قیوم کو گھروں میں نظر بند رکھا جبکہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چئیرمین اور کئی دیگر علیحدگی پسند جماعتوں کے رہنماؤں کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

میر واعظ عمر فاروق نے ڈوئچے ویلے سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا:’’ جب تک بھارتی فوج کی موجودگی کشمیر میں ہے، جب تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا جائے گااور فوج کو باہر نہیں نکالا جائے گا، ہمارا احتجاج جاری رہے گا‘‘

BdT 07.05.2007 Polizisten in Kashmir bei Inspektion durch Chefminister Ghulam Nabi Azad

علیحدگی پسند جماعتوں کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے آج پیر کے روزکو بطور یوم سیاہ منانے کی اپیل کی تھی اور گرمائی دارالحکومت سری نگر میں بطور احتجاج علیحدگی پسند رہنماؤں اور وکلا پر مشتمل ایک انسانی زنجیر بنانے کا اعلان کیا تھا۔جس کی قیادت حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کر سربراہ میر واعظ عمر فاروق کو کرنا تھی تاہم صبح سے ہی پورے کشمیر میں بھاری تعداد میں فوج تعینات کردی گئی تھی اور ریساستی پولیس کی جانب سے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے راستوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے سری نگر اور باقی قصبوں میں دن بھر کرفیو کا سا سماں رہا اور معمول کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ۔ حالانکہ کہ کشمیری پولیس کے انسپیکٹر جنرل بی سری نیواس نے سرکاری طور پر کرفیو نافذ کرنے کو رد کیا اور کہا کہ انتظامیہ نے صرف شہریوں کی حفاظت کے لئے سیکوریٹی کے انتظامات کئے تھے۔

Audios and videos on the topic