1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر میں کنٹرول لائن کے آر پار تجارتی اور سفری سہولتیں

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت باہمی تجارت کے فروغ کے لیے نئےاقدامات پر غور کر رہے ہیں، لائن آف کنٹرول کےآر پار بسنے والے کشمیریوں کی طرف سے بھی دو طرفہ سفر اور تجارت کو فروغ دینےکے حق میں آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

default

چکوٹھی کے مقام پر لی گئی لائن آف کنٹرول کی ایک تصویر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقے چکوٹھی میں واقع لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں سے پاکستانی اور بھارتی فوجوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے کی خبریں تواتر سے ملتی رہی ہیں۔ اس علاقے میں جموں کشمیر کے پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام حصوں کی نشاندہی وہاں سے گزرنے والے دریائے جہلم کا پانی کرتا ہے۔ دریا کے اُس پار فوجی چوکیوں پر بندوقیں تھامے بھارتی فوجی نظر آتے ہیں جبکہ اِس طرف پاکستانی فوجیوں کی نقل وحرکت نمایاں ہے۔

ایک دوسرے سے کچھ ہی فاصلے پر موجود پاکستان اور بھارت کے فوجیوں کی آنکھوں میں روایتی دشمنی کے آثار یہاں نظر نہیں آتے۔ اس علاقے میں رہنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ جب سے یہ راستہ تجارت اور زمینی سفر کے لیے کھولا گیا ہے، تب سے وہاں دوطرفہ فائرنگ کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت اور سفری سہولتوں کے آغاز کے بعد اب یہاں سویلین باشندے بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

Kaschmir Pakistan Indien Jammu Kashmir Chakothi

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں داخل ہونے والا دریائے جہلم

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں قائم کی گئی ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی کے ڈائر یکٹر جنرل بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد اسماعیل نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ کشمیر بس سروس سے منقسم کشمیری خاندانوں کے اب تک دس ہزار سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ان میں سے ساڑھے چھ ہزار کشمیری بھارت کے زیر انتظام علاقے سے یہاں آئے جبکہ باقی ماندہ یہاں سے بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر گئے۔

سرکاری طریقہء کار کے مطابق سفر کے خواہشمند کشمیریوں کو اپنے اپنے علاقوں میں حکام کو باقاعدہ درخواستیں دینا پڑتی ہیں، دوسری طرف سے کلیرنس ملنے کی صورت میں وہ کشمیر کے کسی بھی مقررہ راستے سے سفر کر کے لائن آف کنٹرول پار کر سکتے ہیں۔

ایک کشمیری عبدالواحد نے بتایا کہ کلیرنس کے عمل میں بعض اوقات چھ چھ مہینے بھی لگ جاتے ہیں۔ ان کے بقول مظفر آباد اور راولا کوٹ کی طرح دیگر راستوں سے بھی بسیں چلائی جانی چاہییں اور ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کلیرنس کے نظام کو بھی بہتر اور تیز رفتار بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں لوگ سفر کے لیے درخواستیں دیتے ہیں، لیکن ان میں سے صرف 35 یا 40 چالیس فیصد لوگوں کو ہی سفر کی اجازت مل پاتی ہے۔

مریم نامی ایک کشمیری خاتون نے بتایا کہ کسی عزیز کی وفات یا کسی اور ایمرجنسی کی صورت میں سفری سہولیات کے حصول کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ حکام کو اس انسانی مسئلے کی طرف توجہ دیتے ہوئے کلیرنس کا نظام بہتر بنانا چاہیے۔ حکام کے مطابق اچھی بات یہ ہے کہ اب حکومت نے کشمیر میں ’ٹرپل انٹری فارم‘ کا اجراء کر دیا ہے، جس کے مطابق کلیرنس حاصل کرنے والا ہر کشمیری اب کشمیر بس سروس کے ذریعے تین بار لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف تک کا سفر کر سکے گا۔

Sardar Attique

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خاں کہتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کو لائن آف کامرس بنا دینا چاہیے اور تقسیم سے پہلے کے تمام تجارتی راستوں کو بھی دوبارہ کھول دینا چاہیے۔ اس وقت صرف دو مقامات یعنی چکوٹھی اور راولا کوٹ سے ہی کشمیری سامان لائن آف کنٹرول کے آر پار جا سکتا ہے۔ یہ تجارت صرف کشمیری تاجر کر سکتے ہیں۔ اس تجارت میں کوئی کرنسی استعمال نہیں ہوتی بلکہ اشیاء کے بدلے اشیاء کا تبادلہ ہوتا ہے۔

ابرار نامی ایک کشمیری تاجر نے بتایا کہ اس وقت صرف 20 اشیاء کی دوطرفہ تجارت کی اجازت ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر سے مونگی، قالین، پشاوری چپل،خشک میوہ جات، جائے نماز، بادام اور کڑھائی کے آلات بجھوائے جا رہے ہیں جبکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے پھل، سبزیاں، مصالحے اور چاول آرہے ہیں۔

کشمیری تاجروں کا مطالبہ ہے کہ ان تجارتی اشیاء کی تعداد بڑھا کر کم از کم بھی ایک سو کی جانی چاہیے۔ تجارتی سامان کی ترسیل کے راستے بھی دو سے بڑھا کر چار کیے جانے چاہییں۔ کئی کشمیری تاجروں کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب مظفر آباد اور راولا کوٹ کے نزدیک تجارتی منڈیاں قائم کی جائیں۔

ان کشمیری باشندوں کو یہ تو معلوم نہیں کہ ان کی بہتری کے لیے یہ فیصلے کون کرے گا، لیکن وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے بعد سفری سہولتوں اور تجارت کے بارے میں معمول کے فیصلے کرنے والے ورکنگ گروپ کا ابھی تک ایک بھی اجلاس نہیں ہو سکا ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس