1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر میں مولانا مسعود اظہر کا ’بھتیجا‘ ہلاک، بھارت کا دعویٰ

بھارتی فوج نے عسکریت پسند تنظیم جیش محمد کے رہنما مولانا مسعود اظہر کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی ابھی تک آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ اس واقعے میں ایک بھارتی فوجی بھی مارا گیا۔

بھارتی نیم فوجی دستوں  کے ایک افسر ونے کمار نے بتایا کہ یہ جھڑپ ضلع پلوامہ میں پیر کی رات اس وقت شروع ہوئی، جب دو گھروں میں چھپے ہوئے عسکریت پسندوں نے گشت پر مامور دستوں پر اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران تین مبینہ حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوا۔ ان کے بقول ان تینوں کا تعلق جیش محمد نامی تنظیم سے تھا،’’ ان میں اس تنظیم کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا طلحہ رشید بھی شامل ہے۔‘‘

بھارتی فوج کے ایک فسر بی ایس راجو نے بتایا کہ طلحہ کا شمار اس خطے کے مطلوب ترین شدت پسندوں میں ہوتا ہے۔ بی ایس راجو نے مزید بتایا کہ رشید کے ساتھ ہلاک ہونے والے ایک اور شدت پسند کا تعلق پاکستان سے تھا جبکہ تیسرا مقامی شہری تھا۔

نئی دہلی حکام بھارت میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری مولانا مسعود اظہر پر عائد کرتے ہیں۔ جیش محمد بھارتی کشمیر میں سرگرم کئی شدت پسندوں گروپوں میں بھی شامل ہے۔

 

پٹھان کوٹ ایئر بیس حملہ: مولانا مسعود اظہر باقاعدہ ملزم نامزد

'جیش محمد، لشکر طیبہ‘، دہشت گرد تنظیمیں ہیں، برکس اعلامیہ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ’جیش محمد کا اہم کمانڈر‘ ہلاک

پاکستان نے 2002ء میں جیش محمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مولانا مسعود اظہر کو 1994ء میں بھارتی کشمیر سےگرفتار کیا گیا تھا۔ مسعود اظہر کو 1999ء میں ہائی جیک کیے جانے والے انڈین ایئر لائنز کے ایک طیارے کے مسافروں کے بدلے ایک بھارتی جیل سے رہا کروایا گیا تھا۔

DW.COM