1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کشمیر میں لاکھوں سرکاری ملازمین کی ہڑتال جاری

بھارت کے زیر انتظام ریاست جمّوں و کشمیر میں تقریباً پانچ لاکھ سرکاری ملازمین گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاجی ہڑتال پر ہیں۔

default

یہ ملازمین چھٹے تنخواہی کمیشن کے تحت مراعات اور ریٹائرمنٹ کی عمر میں دو سال کی توسیع سمیت دیگر مطالبات کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے ملازمین کے مطالبات تسلیم کرنے سے فی الحال انکار کردیا ہے۔ ہفتے کے روز احتجاجی ملازمین اور پولیس کے درمیان گرمائی دارالحکومت سری نگر میں کئی جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ملازمین اپنے مطالبات پورے ہونے تک ہڑتال جاری رکھنے اور احتجاج میں شدت لانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ ریاستی حکومت نے ہڑتالی ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ذہن بنالیا ہے۔

حکام نے احتجاجی ملازمین کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔ ہسپتالوں میں غیرحاضر کئی ملازمین کو ملازمت سے برخاست کردیا گیا ہے۔

Kashmiri Politischer Führer und Chef von National Konferenz, Omar Abdullah vor seine Rede an Parteianhänger in Srinagar on 20.03.06

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

ملازمین کے اتحاد نے ریاستی حکومت کو 13اپریل تک کی مہلت دی ہے، جس کے بعد وہ لازمی اور ہنگامی خدمات بھی بند کر دیں گے۔ ریاست کے وزیر برائے خزانہ عبدالرحیم راتھر نے کہا ہے کہ مالی دشواریوں کے باعث ملازمین کے مطالبات پورے نہیں کئے جا سکتے ہیں۔ وزیر کے مطابق ریٹائرمنٹ عمر کی حد موجودہ 58 سے بڑھا کر 60سال کرنے سے ہزاروں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان مشتعل ہوسکتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ملازمین کے مطالبات تسلیم کرنے کے لئے ریاستی حکومت کو چار ہزار کروڑ روپے کی خطیر رقوم کی ضرورت ہے جبکہ جموّں و کشمیر حکومت کی سالانہ آمدنی صرف 3600 کروڑ روپے ہی ہے۔

رپورٹ : گوہر نذیر گیلانی

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM