1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کشمیر میں قیام امن:’طاقت کا استعمال ترک کرنا ہوگا‘

بین الاقوامی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ شورش زدہ وادی جموں و کشمیرمیں قیام امن کے لئے بھارت کو طاقت کا استعمال ختم کرنا ہوگا۔

default

جمعرات کو جاری کی گئی اس رپورٹ میں کشمیرکا مسئلہ حل کرنے کے لئے کئی اہم تجاویزمرتب کی گئی ہیں۔ ’امن کی طرف اقدام: کشمیرسب سے پہلے‘ کے نام سے جاری کی گئی اس رپورٹ کا اجراء اُس وقت کیا گیا ہے، جب ممبئی حملوں کی نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات پرتناؤ کی چادر تنی ہوئی ہے۔ بھارتی حکومت نے سن 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا، جس کے اب کہیں جا کر دوبارہ ان مذاکرات کے شروع ہونے کے آثار پیدا ہونے لگے ہیں۔

آئی سی جی کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا، ثمینہ احمد کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کے نتیجے میں کشمیرمیں سیاسی اوراقتصادی طور پر نقصان ہو رہا ہے۔ ادارے کی ویب سائٹ پرثمینہ احمد نے لکھا : ’’ کشیدہ ماحول کی وجہ سے منقسم کشمیر کے باسیوں پرمنفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘‘

برسلزمیں قائم اس بین الاقوامی ادارے نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی زیرانتظام کشمیرمیں مسلح تحریک کےخاتمے کے لئے فوجی طاقت استعمال کرنے کے بجائے کوئی مؤثر حکمت عملی تریب دی جائے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی دہلی، اپنے زیر انتظام کشمیرمیں اقتصادی صورتحال کو بہتر بنائے، جو پرتشدد واقعات کی وجہ سے شدید متاثر ہوچکی ہے۔ ادارے نے کہا:’’ یہ بھارت کے مفاد میں ہے کہ وہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے پرخلوص طریقے سے کام کرے نہ کہ تسلط کے ذریعے۔‘‘

Kontrollposten am indischen See Dal in Srinagar Indien-Pakistan Konflikt

آئی سی جی کے مطابق کشمیر میں اقتصادی صورتحال بہتر بنانی چاہئے

اس رپورٹ میں پاکستان کو بھی مشورہ دیا گیاہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیرمیں بہترسیاسی فضا قائم کی جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہاں کی عسکری تنظیموں کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی تعاون حاصل نہ ہو۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ممبئی حملوں کی طرح کا کوئی نیا حملہ دو طرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچاتے ہوئے ہمسایہ ممالک کو جنگ کے دہانے پرلا سکتا ہے۔

بھارت کے زیرانتظام جموں وکشمیر میں گزشتہ بیس سالوں سے جاری مسلح تحریک کے دوران، سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کم ازکم 47 ہزارافراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں ہلاکتوں کی یہ تعداد دوگنا بتاتی ہیں۔

پاکستانی حکومت ایسے تمام ترالزامات کو مسترد کرتی ہے کہ بھارتی زیرانتظام کشمیرمیں علٰیحدگی پسندوں کواسلام آباد کی حمایت حاصل ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM