1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر میں شورش اور بھارتی پارلیمان کا تازہ اجلاس

پارلیمان کا نیا اجلاس پیر اٹھارہ جولائی سے شروع ہورہا ہے۔ کشمیر میں تشدد کی نئی لہر، حکومت کی پاکستان پالیسی، این ایس جی میں بھارت کو شامل کرانے میں حکومت کی ناکامی اوردیگر معاملات کے سبب یہ اجلاس دھماکا خیز ہو سکتا ہے۔

پارلیمان کا مون سون اجلاس، جو جولائی اور اگست کے مہینے میں منعقد کیا جاتا ہے، کئی اہم موضوعات کی وجہ سے غیر معمولی ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم سے شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں کانگریس حکومت بہ حال ہوجانے سے اپوزیشن جوش میں ہے اور مختلف امور پر وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس تناظر میں آج اتوار کے روز مودی نے اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

کشمیر میں تشدد کی لہر

Indien Protestanten in Kaschmir

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہنگامہ آرائی جاری ہے

کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں تشدد کے واقعات اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ علیحدگی پسندوں کی جھڑپوں میں چالیس سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا معاملہ اجلاس میں یقینی طور پر زیر بحث رہے گا۔ ریاست جموں و کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت ہے اور ریاستی حکومت کی طرف سے متعدد اخبارات کے خلاف پابندی عائد کردینے کا معاملہ بھی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جماعتیں اٹھائیں گی۔ میڈیا کے خلاف حکومت کے اس اقدام کو جمہوریت او رپریس کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دیا جارہا ہے۔

کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کے مدنظر اپوزیشن مودی حکومت کی پاکستان سے متعلق پالیسیوں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ خیال رہے کہ حکمراں بھارتیا جنتا پارٹی ماضی میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کی پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی ہر کوشش پر سوال اٹھایا کرتی تھی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے ساتھ رشتوں کو استوار کرنے کی جو غیر معمولی کوشش کی، اور بالخصوص گذشتہ دسمبر میں وزیر اعظم نواز شریف کی سال گرہ پر پاکستان جاکر انہیں مبارک باد دی ، اس نے بھارت کے عام لوگوں کے ساتھسیاسی اور سفارتی تجزیہ کاروں کو بھی حیران کردیا تھا۔

این ایس جی پر ’سبکی‘ اور نیا ٹیکس

نیوکلیائی سپلائر گروپ (این ایس جی) میں بھارت کی شمولیت میں ناکامی پر بھی مودی حکومت کو پارلیمنٹ میں سبکی اٹھانا پڑسکتی ہے۔ سیول میں ہوئی این ایس جی کی میٹنگ سے قبل مودی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ اس عالمی گروپ میں بھارت کی شمولیت یقینی ہے کیوں کہ چین بھی اس کی تائید کرنے کے لئے رضامند ہوگیا ہے۔ تاہم چین نے اس طر ح کی کسی رضامندی سے یکسر انکار کردیا تھا۔

اس اجلاس میں مودی حکومت کا ایک اہم ایجنڈا گڈس اینڈ سروسز ٹیکس(جی ایس ٹی) بل کو منظور کرانا ہے۔ اس بل کو 1947میں بھارت کی آزادی کے بعد سے ملک میں سب سے بڑی اقتصادی اصلاح قرار دیا جارہا ہے۔ اور حکومت کے اقتصادی منصوبوں کو روبہ عمل لانے کے لیے اس کی منظوری ضروری ہے ۔ حکمراں بی جے پی 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی اس بل کو منظور کرانے کی کوشش کرتی رہی ہے اور لوک سبھا میں اپنی اکثریت کی وجہ سے اسے منظور کرا بھی چکی ہے۔ تاہم ایوان بالا میں اپوزیشن کی اکثریت کے سبب اس بل کو منظور کرانا اس کے لیے ٹیڑھی کھیر ثابت ہورہی ہے۔ جب کہ آئینی بل ہونے کے سبب اسے دو تہائی اکثریت سے منظور کرانا ضروری ہے۔

تعاون کی اپیل

اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کی اور اپوزیشن پارٹیوں سے جی ایس ٹی بل کو منظور کرانے میں مدد کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام پارٹیوں کو قومی مفاد مقدم رکھنا چاہیے اور یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس بل کی منظوری کا سہرا کس کے سر جاتا ہے۔ تاہم راجیا سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کی کمی ہے اس لیے وہ اس سمت میں کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

کانگریس کے ایک اور سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر جے رام رمیش نے واضح لفظوں میں کہا کہ حکومت اس طرح کی کوئی توقع نہ رکھے۔ ’’ایک طرف تو مودی حکومت اروناچل پردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور میگھالیا میں آئین کا قتل کررہی ہے اور دوسری طرف چاہتی ہے کہ جی ایس ٹی کو منظور کرانے میں ہم اس کی مدد کریں۔‘‘ جے رام رمیش کا مزید کہنا تھا کہ’’مسٹر مودی اپوزیشن پارٹیوں اور سپریم کورٹ کو خاموش کردینا چاہتے ہیں، یہ کسی بھی ہندوستانی کے لیے قابل قبول نہیں ہے، آخر وہ کس بنیاد پر کانگریس سے مدد کی توقع کررہے ہیں؟‘‘۔

رمیش نے دعوی کیا کہ مودی حکومت جی ایس ٹی بل کو صرف بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہچانے کے لئے منظور کرانا چاہتی ہے۔

پارلیمنٹ کا اجلاس بارہ اگست تک چلے گا۔ لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن نے بھی تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ کا اجلاس پرسکون انداز میں چلانے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ ہنگامہ آرائی کے سبب پارلیمنٹ کے اجلاس کے مسلسل التوا پر صدر اور نائب صدر بھی مایوسی کا اظہار کرچکے ہیں، کیوں کہ اس کی وجہ سے ملک اور عوام کو درپیش اہم مسائل پر کوئی بات ہی نہیں ہوپاتی ہے اور پیسے کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس پر فی منٹ ڈھائی لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔