1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر میں ’جیش محمد کا اہم رکن‘ ہلاک، بھارتی پولیس

بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کشمیر میں ’جیش محمد کے آپریشنز چیف‘ سیف اللہ کو فائرنگ کے ایک مقابلے میں ہلاک کر دیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

Indien Generalstreik in Srinagar Kaschmir

بھارتی حکام کے مطابق کشمیر میں جیش محمد گزشتہ پندرہ برسوں سے سرگرم ہے

بین الاقوامی نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے ’جیش محمد کے آپریشنز چیف سیف اللہ‘ اور ان کے ایک ساتھی کو پیر کی شب سری نگر کے ایک گھر میں فائرنگ کرتے ہوئے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس افسر سید جاوید مجتبیٰ گیلانی نے اس حوالے سے اے پی کو بتایا کہ سیف اللہ کے دوسرے ساتھی کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق کشمیر میں جیش محمد گزشتہ پندرہ برسوں سے سرگرم ہے جبکہ نئی دہلی حکومت جیش محمد کو سن2001ء میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر شہروں میں بھی ہونے والے حملوں کی ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ واضح رہے کہ سن 2001ء میں بھارت کی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کے بعد پاک بھارت تعلقات میں شدید تناؤ دیکھنے میں آیا تھا اور دونوں جوہری طاقتیں جنگ کے بہت قریب پہنچ گئی تھیں۔

مجتبیٰ گیلانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے و الے دونوں باغیوں کا تعلق پاکستان سے ہے اور سیف اللہ اس علاقے میں گزشتہ چار برسوں سے سرگرم تھا۔ تاہم اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں افراد سری نگر میں ایک کرائے کے گھر میں اپنے آپ کو طالب علم ظاہر کر کے رہائش پذیر تھے۔ واضح رہے کہ اس حوالے سے تنظیم جیش محمد کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

پولیس نے مختصر فائرنگ کے بعد مالک مکان کو گرفتار کر لیا ہے. منگل کے روز سری نگر کا مرکزی بازار سرائی بالا مکمل طور پر بند رہا اور پولیس نے نسو گیس کا استعمال بھی کیا تاکہ لوگ وہاں جمع نہ ہو سکیں۔ پولیس نے چار عام شہریوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے مقامی افراد کے اس الزام کی بھی تردید کی ہے کہ یہ دونوں باغی پولیس کی حراست میں ہلاک ہوئے ہیں۔

کشمیر پاکستان اور بھارت میں تقسیم ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں باغی گروہ کشمیر کی آزادی یا پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے سن 1989ء سے مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 68000 افراد، جن میں زیادہ تر معصوم شہری تھے، بھارتی کریک ڈاؤن اور مسلح بغاوت کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

DW.COM