1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر میں جھڑپ، دو بھارتی فوجی ہلاک

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جمعے کی رات ہونے والی ایک جھڑپ کے نتیجے میں دو بھارتی فوجی اور دو مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں۔ بھارت کے زیر کنٹرول اس متنازعہ علاقے میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی حکام کے حوالے سے تیس جولائی بروز ہفتہ بتایا ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کے پاکستانی کشمیر کے ساتھ متصل علاقے میں جمعے کی رات ہونے والی ایک خونریز جھڑپ اس وقت شروع ہوئی، جب بھارتی فوج نے مبینہ طور پر ’پاکستانی علاقے سے داخل‘ ہونے والے کچھ جنگجوؤں کو روکنے کی کوشش کی۔

بھارتی فوج کے کرنل این این جوشی نے بتایا کہ یہ لڑائی کپواڑہ ضلع کے نوگام سیکٹر میں ہوئی، جو مرکزی شہر سری نگر سے ایک سو بیس کلو میٹر دور شمال مغرب میں واقع ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اس جھڑپ میں دو فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوا جبکہ دو دہشت گرد بھی مارے گئے۔‘‘

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں مقبول باغی رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے اس وادی میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

وانی بھارتی فورسز کے ساتھ آٹھ جولائی کو ہونے والی ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اس ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی شورش کے باعث پچاس سے زائد افراد جبکہ ہزاروں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔

بھارتی حکام نے مظاہروں کو روکنے کی خاطر کشمیر کے متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ ہفتے کے دن اس کرفیو کے نفاذ کو بائیس دن مکمل ہو چکے ہیں۔

اس دوران وہاں روزمرہ زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق کشمیر میں انٹر نیٹ سروس تاحال معطل ہے تاہم موبائل نیٹ ورک سروس کو جزوی طور پر بحال کیا جا چکا ہے۔

نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں متعدد باغی گروہ فعال ہیں، جن میں مقتول باغی رہنما برہان وانی کا ’حزب المجاہدین‘ نامی گروہ بھی شامل ہے۔

یہ باغی گروپ کشمیر کو بھارت سے آزادی دلانے یا پھر اس کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خاطر کشمیر میں تعینات تقریباﹰ پانچ لاکھ بھارتی فوجی اہلکاروں کے خلاف گزشتہ کئی عشروں سے اپنی مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

علیحدگی پسندی کی اس تحریک میں اب تک لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی اس پورے متنازعہ علاقے پر اپنا اپنا حق جتاتے ہیں۔