1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کشمیر میں تشدد کے ثبوت امریکہ کے پاس ہیں‘

وکی لیکس کے انکشافات نے پاکستا ن اور افغانستان کے بعد اب بھارت میں بھی سیاسی ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ ان انکشافات کے مطابق امریکی حکام کے پاس ریاست جموں وکشمیر میں قیدیوں پر ظلم وزیادتی کے ثبوت موجود ہیں۔

default

وکی لیکس کے حوالے سے شائع ہونے والے ایک اورخفیہ سفارتی پیغام کے مطابق انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس (ICRC) نے ریاست جموں وکشمیر میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر تشدد کے ثبوت امریکی سفارت کاروں کو بھیجے تھے۔

آئی سی آر سی نے 2004ء کے دوران کشمیر میں عقوبتی مراکز کے دورے کے دوران مارپیٹ، بجلی کے جھٹکے لگانے، جنسی طور پر ہراساں کرنے اور بدسلوکی کے دیگر واقعات کاانکشاف کیا تھا۔ تشدد کی ان اقسام میں پانی سے تشدد، ٹانگوں کو 180ڈگری زاوئے تک پھیلادینا، ٹانگوں کے پٹھوں کو مسلنا اور چھت سے لٹکا دینا شامل ہے۔ آئی سی آر سی نے امریکی سفارتکاروں کو بتایاتھا کہ انہوں نے 177حراستی مراکز کے دورے کئے اور 1491زیرحراست افراد سے ملاقات کی۔

تشدد کے یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حالیہ مہینوں کے دوران کشمیر میں کشیدگی عروج پر ہے اور بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے پیش نظر کئی بار کرفیو نافذکردیا گیا ہے۔

ریاست جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ واقعات جس زمانے میں پیش آئے اس وقت ان کی حکومت نہیں تھی اور ان کی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو قطعاً برداشت نہیں کرے گی۔

Omar Abdullah

عمر عبد اللہ

دریں اثناء وکی لیکس کے انکشافات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بھارت کی حکمراں کانگریس پارٹی کے جنرل سیکریٹری راہول گاندھی نے ہندو انتہا پسندوں کو ملک کے لئے مسلم انتہا پسندوں سے زیادہ خطرناک قرار دیاتھا۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں کانگریس پارٹی میں ”ہندو دہشت گردی“ کی بحث تیز ہوگئی ہے۔ کچھ دنوں پہلے راہول گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنَگھ کاموازنہ ممنوعہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا سے کردیا تھا۔ کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے بھی ممبئی حملے سمیت ملک میں ہوئے کئی دہشت گردانہ حملوں کے لئے ہندوانتہا پسند تنظیموں کانام لیا تھا۔

حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ ممبئی حملے میں مارے گئے مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو ہندو تنظیموں سے خطرہ تھا۔ وزیرداخلہ پی چدمبرم نے بھی کچھ دنوں قبل کہا تھا کہ بھارت میں سیفرن ٹیرارزم ایک نئے رجحان اور نئے خطرے کے طور پر تیزی سے ابھررہا ہے۔ ان بیانات پر بی جے پی اور آرایس ایس نے کافی ہنگامہ مچایاتھا۔

رپورٹ : افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس