1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک حکومتی عمارت میں موجود مسلح افراد کے خلاف سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیر کو تیسرے روز بھی طرفین کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

بھارتی حکام کےمطابق مسلح جنگجو تین روز قبل اس حکومتی عمارت میں داخل ہو گئے تھے اور تب سے حکومتی فورسز اس عمارت پر قبضے کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس واقعے میں اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب پوری رات جاری رہنے والی فائرنگ کے بعد اس پانچ منزلہ عمارت کو عسکریت پسندوں سے چھڑانے کے لیے فوجی کمانڈوز اور پولیس کی بھاری نفری نے پیر کے روز ایک تازہ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ریاستی دارالحکومت سری نگر کے قریب واقع اس حکومتی عمارت سے فائرنگ اور دھماکوں کی آواز وقفے وقفے سے آ رہی ہے۔

اتوار کے روز پولیس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اب تک ایک عسکریت پسند کو ہلاک کیا جا چکا ہے، جب کہ موقعے پر موجود پولیس اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی مشین گنوں اور دستی بموں سے لیس تین یا چار عسکریت پسند اس عمارت میں موجود ہو سکتے ہیں۔

Indien Polizei in Pathankot

اس سے قبل پٹھان کوٹ فوجی اڈے کے واقعے میں بھی مسلح تصادم کئی روز تک جاری رہا تھا

ایک فوجی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا، ’’حالیہ تاریخ میں کشمیر میں پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ کا یہ طویل ترین واقعہ ہے۔ یہ عمارت بہت بڑی ہے اور اب تک ہمیں جانی نقصان کا سامنا رہا ہے، اس لیے ہم انتہائی محتاط انداز سے آپریشن کر رہے ہیں۔‘‘

ہفتے کے روز اس حملے کا آغاز اس وقت ہوا، جب مسلح جنگجوؤں نے پولیس اہلکاروں سے بھری ایک بس پر فائرنگ کی اور اس کے بعد ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی اس پانچ منزلہ عمارت میں اس وقت داخل ہو گئے، جب وہاں ایک سو سے زائد افراد موجود تھے۔ اب تک اس لڑائی میں ایک عام شہری، تین فوجی کمانڈوز، دو پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند مسلم جنگجو سن 1989ء سے مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت کا الزام رہا ہے کہ ان عسکریت پسندوں کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے اور پاکستان ہی انہیں عسکری تربیت دے کر لائن آف کنٹرول عبور کرتے ہوئے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں داخل کراتا ہے جب کہ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

DW.COM