1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کشمیر میں اجتماعی زیادتی کے پرانے کیس کی ازسر نو تحقیقات

بھارت میں ایک حکومتی کمیشن نے تجویز کیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں بیس برس قبل اجتماعی زیادتی کے اُس کیس کی تازہ تحقیقات کی جائیں، جس میں بھارتی فوجیوں نے مبینہ طور پر کم ازکم 31 خواتین کی آبروریزی کی تھی۔

default

کشمیر کے اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن SHRC نے ہفتہ کے دن نئی دہلی حکومت کو اپنی تجاویز جمع کرواتے ہوئے کہا ہے کہ ایک خصوصی غیر جانبدار ٹیم تشکیل دی جائے، جو بھارتی زیر انتظام کشمیر میں واقع دور دراز کے دو گاؤں میں 1991کے دوران رونما ہونے ان واقعات کی از سر نو تحقیقات کرے۔

SHRC نے حالیہ دنوں میں متاثرہ خواتین سے انٹرویو کیے اور ان کی شہادتیں قلمبند کیں۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا، ’اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں اٹھارہ خواتین کے بیانات لیے گئے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ وہ ظلم وستم کا نشانہ بنیں‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کی نئے سرے سے تحقیقات کے لیے تشکیل دی جانے والی ٹیم کی سربراہی علاقائی پولیس کے سربراہ کو سونپی جائیں۔ حقوق انسانی کے اس سرکاری ادارے نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس وقت کے محکمہء قانون کے سربراہ کے خلاف بھی مناسب کارروائی کی جائے کیونکہ اسی کی وجہ سے یہ کیس دبا دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت اس واقعے میں متاثر ہونے والی خواتین کو ہرجانہ بھی ادا کرے۔

Indische Soldaten in Kaschmir nach dem Anschlag

بھارتی فوج ان الزامات کو رد کرتی ہے

بھارتی زیر انتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دو گاؤں کنن اور پوشپورہ کی متعدد خواتین کا الزام ہے کہ بھارتی فوجیوں نے انہیں 1991ء میں 23 اور 24 فروری کی درمیانی رات کے دوران اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ بھارتی فوج کی طرف سے اس الزام کو مسترد کر دیے جانے کے باوجود اُس وقت کشمیر بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

پریس کونسل آف انڈیا کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم نے اسی برس جون میں اس الزام کی تحقیقات کی غرض سے کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ اس ٹیم کی رپورٹ نے ان الزامات کو جھوٹ کا پلندا قرار دیتے ہوئے انہیں حکومت مخالف جنگجؤوں کے ایک پراپیگنڈے کا نام دیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس