1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر: بھارت مخالف مظاہرے تیسرے ماہ بھی جاری، دو ہلاک

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں آج ہفتے کے روز بھارتی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران جھڑپوں اور سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دو مزید کشمیری ہلاک ہو گئے ہیں۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں بھارتی اقتدار کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ آج ہفتہ 10 ستمبر کو وادی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں ایک 25 سالہ کشمیری ہلاک ہو گیا۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ایک مقامی پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ آزادی نواز مظاہرے کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی طرف سے چلائے گئے آنسو گیس کے ایک گولے کا شیل ایک احتجاجی کے سر میں لگا اور اُس کی موت واقع ہو گئی۔

ضلع اننت ناگ میں ہونے والے ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران ایک 22 سالہ کشمیری پیلٹ گن سے فائر کیے گئے چھروں سے زخمی ہو کر چل بسا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی زیر انتظام کشمیر میں آج ہفتے کے روز ہونے والے بھارت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں 100 کے قریب کشمیری زخمی بھی ہوئے۔ ڈی پی اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ایک بار پھر کرفیو کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔

Indien Pellet Opfer Insha Malik

چھرے والی گولیوں سے ہلاکتوں کے علاوہ کئی افراد کی آنکھیں بھی ضائع ہو گئی ہیں

بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ رواں برس آٹھ جولائی کو ایک علیحدگی پسند کشمیری تنظیم حزب المجاہدین کے ایک نوجوان کمانڈر برہان وانی کی بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔ اُس وقت سے اب تک کم از کم 78 کشمیری مظاہرین بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں۔ بھارتی فورسز کی طرف سے مظاہرین کے خلاف استعمال کی جانے والی پیلٹ گنوں کے باعث سکیورٹی فورسز پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ان مظاہروں کے دوران اب تک بھارتی پولیس کے دو اہلکار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ڈی پی اے کے مطابق مسلم اکثریت والے اس علاقے میں 2010ء کے بعد سے ہونے والا یہ بد ترین تشدد کا سلسلہ ہے۔ 2010ء میں پولیس کی طرف سے ایک ٹین ایجر کشمیری نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں 120 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

DW.COM