1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر: بھارتی فورسز نے تمام پاکستانی پرچم اتار دیے

بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے وہ تمام پاکستانی پرچم اتار دیے ہیں، جو پاکستان میں بھارت کے خلاف منائے جانے والے ’یوم سیاہ‘ کے موقع پر کشمیریوں نے اپنے گھروں پر لگائے تھے۔

پاکستان میں آج کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی کے لیے منائے جانے والے ’یوم سیاہ‘ کے بعد بھارتی فورسز کو خوف ہے کہ ان کے زیر کنٹرول کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں ’یوم سیاہ‘ منائے جانے کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے، ’’اسلام آباد کو بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے اور صورتحال کو غیر مستحکم بنانے سے باز رہنا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کشمیریوں اور بھارت سے آزادی مانگنے والے باغیوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

دریں اثناء پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’کشمیر کو کسی بھی صورت بھارتی کا اندرونی معاملے کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ پہلے ہی اسے ایک متنازعہ علاقہ قرار دے چکا ہے۔‘‘

پاکستانی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے دنیا سے کشمیر میں ریفرنڈم کروانے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ آج تک ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ گزشتہ گیارہ روز کے دوران بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد کشمیری نوجوانوں اور نابالغوں کی تھی جبکہ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ اس دوران زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد تقریباﹰ دو ہزار بنتی ہے جبکہ سولہ سو حکومتی سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والا ایک اور شخص آج سری نگر کے ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس شخص کی نماز جنازہ آج اس کے آبائی گاؤں میں ادا کر دی گئی ہے لیکن، جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جنازے میں شریک افراد نے پاکستان کے حق جبکہ بھارت کی مخالفت میں نعرے لگائے۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق آج سری نگر میں بہت سے گھروں پر پاکستانی اور سیاہ پرچم لہراتے نظر آئے جبکہ حکومتی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ایسے تمام جھنڈے اتار دیے۔ اس نیوز ایجنسی کے مطابق بھارتی زیر انتظام کشمیر کے زیادہ تر حصوں سے معلومات حاصل کرنا ناممکن ہو چکا ہے کیوں کہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل ہے۔