1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کشمیری ماضی کی غلطیوں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں‘

پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں آج ستائیس اکتوبر کو کشمیر میں بھارتی فوج کی مداخلت پر یوم سیاہ منایا گیا۔ مختلف کشمیری سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس سلسلے میں ریلیاں نکالیں اور بھارت کے خلاف پر زور احتجاج کیا۔

پاکستان میں بھی ستائیس اکتوبر کے  دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔کوٹلی، میر پور، مظفر آباد، باغ اور راولا کوٹ سمیت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے کئی علاقوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور صدرِ مملکت ممنون حسین نے اس موقع پر اپنے ایک پیغام میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان کی سینیٹ نے ایک قرار داد کے ذریعے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے اقوامِ متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو کیسے روک سکتا ہے جب وہ خود اس کا ایک حصہ بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ مسلم ممالک کے حقوق کو اتنی اہمیت نہیں دیتا ، جتنی کہ مغربی ممالک کے حقوق کو دی جاتی ہے۔
اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کے سوال پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشمیریوں کی خودمختاری کے لئے کام کرنے والی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکڑ توقیر گیلانی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر دنیا بھر کے کشمیری اس لئے مناتے ہیں کیونکہ اس دن دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت نے کشمیر پر اپنا فوجی قبضہ جمایا تھا اور تب سے آج تک کشمیری ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ آج ہماری پارٹی سمیت سارے کشمیر میں بھارتی استبداد کے خلاف مظاہر ے ہور ہے ہیں۔ اس موقع پر ہم بین الاقوامی برادری سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے حقِ رائے دہی کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’حالیہ بھارتی مذاکرات کی پیشکش کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک کشمیری ، بھارت، پاکستان اور بین الاقوامی برادری اس کا حصہ نہ بنے۔ نئی دہلی نے یہ پیشکش صرف امریکی وزیرِ خارجہ ٹلرسن کے دورہ سے پہلے کی، جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ تو مذاکرات کے لئے تیار ہے لیکن دوسرے مخلص نہیں ہیں۔‘‘
سابق امیرِ جماعت اسلامی سید منور حسن نے اس مسئلے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا، ’’کشمیر میں جو حالیہ ہفتوں میں بھارت کی طرف سے بربریت کا مظاہرہ کیا گیا اس پر بین الاقوامی برادری، جس کا مطلب بنیادی طور پر امریکا اور برطانیہ ہے، نے کوئی مذمت نہیں کی۔ ‘‘
انہوں نے کہا جس طرح وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے امریکا کے حوالے سے پارلیمنٹ میں تقریر کی، اسی طرح ان کو بھارت کے حوالے سے بھی بات کرنی چاہیے۔ منورحسن نے کہا کہ پاکستان کشمیر پر مذاکرات سے کبھی نہیں بھاگا،’’ہم نے ہمیشہ مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے لیکن یہ مذاکرات ہمیں وقار کے ساتھ کرنے چاہئیں۔ مذاکرات ان سے ہوتے ہیں جن کا ذہن جمہوری ہو لیکن بھارت اجارہ داری کی سوچ رکھتا ہے۔‘‘
لیکن کچھ کشمیری اس یومِ سیاہ پر تنقید بھی کرتے ہیں اور پاکستان کی طرف سے ہونے والی غلطیوں کو ہدفِ تنقید بھی بناتے ہیں۔ معروف کشمیری تاریخ دان اور دانشور پروفیسر خلیق احمد نے کہا کہ صرف اس دن ہی یومِ سیاہ نہیں منانا چاہیے بلکہ بات بائیس اکتوبر کے حوالے سے بھی ہونی چاہیے، ’’بائیس اکتوبر انیس سو سینتالیس کو ہم نے کشمیر میں قبائلیوں کو بھیجا، جنہوں نے وہاں جا کر لوٹ مار کی۔ حالانکہ مہاراجہ کشمیر کا ہمارے ساتھ معاہدہ تھا اور اس نے اپنا کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ بھی پاکستان کو دیا ہوا تھا۔ اس کی یہ پوزیشن تھی کہ کشمیر کا پاکستان اور بھارت سے ویسا ہی تعلق ہوگا جیسا کہ برطانوی راج کے دوران اس کا انگریز سرکار سے تھا۔ ہم نے پہلے قبائلی بھیج کر اس معاہدے سے انحراف کیا اور بعد میں ایک باغی حکومت آزاد کشمیر میں بنا کر اس کی دوسری بار خلاف ورزی کی۔‘‘
انہوں نے کہا اس قبائلی لشکر کشی کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو ہوا، ’’اس لشکر کشی کی وجہ سے مہاراجہ نے بھارتی حکومت کو خط لکھا اور الحاق کے کاغذات پر دستخط کئے۔ اس سے پہلے مہاراجہ نے کشمیر سے الحاق نہیں کیا تھا۔ اب کشمیری ان ماضی کی غلطیوں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔‘‘